چین کا سی پیک فیز 2 پر اظہار اطمینان، علاقائی امن و استحکام کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت، صنعت،آئی سی ٹی میں تعاون بڑھانے اور علاقائی امن، ترقی اور استحکام کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی بیجنگ میں چینی وزیرخارجہ وانگ ای سے ملاقات ہوئی جس میں جنوبی ایشیا کی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور عالمی فورمز پر تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں چین نے سی پیک فیز 2 پر اطمینان کا اظہار کیا اور تیسرے فریق کی شمولیت پر باہمی رضامندی ظاہر کی جب کہ دونوں ممالک نے سرمایہ کاری، زراعت، صنعت،آئی سی ٹی میں تعاون بڑھانے اور علاقائی امن، ترقی اور استحکام کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔
ہنی ٹریپ کیس، خلیل الرحمان قمر ایک مرتبہ پھر عدالت پہنچ گئے
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور دفاع کے حق پر چین کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان چین کے کلیدی مفادات پر مکمل حمایت جاری رکھے گا، مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ضروری ہے۔
اس موقع پر چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین پاکستان کا آہنی بھائی اور ہر موسم کا اسٹریٹیجک شراکت دار ہے، پاکستان کی خودمختاری کے دفاع میں ثابت قدمی قابل تعریف ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔