ویب ڈیسک : وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارتی گمراہ کن مؤقف دنیا نے تسلیم نہیں کیا، اب مودی کی سیاست دم توڑ رہی ہے۔

میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے حالیہ اجلاس میں بھارت کی جھوٹی تشہیر اور گمراہ کن مؤقف کو کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا، جب کہ پاکستان کا نقطہ نظر عالمی سطح پر سراہا گیا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران ماحول خوشگوار اور غیر متنازع رہا، تمام کارروائی تنظیم کے قواعد و ضوابط کے تحت انجام دی گئی۔ اجلاس میں کسی ملک کو دوسرے کی تقریر پر تنقید کرنے یا جوابی مؤقف پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے باعث بھارتی وزیر دفاع کو موقع نہیں ملا کہ وہ پاکستان کے مؤقف کو چیلنج کر سکیں۔

انارکلی : مکان کی چھت گر نے سےملبےتلےدب کر5افراد زخمی

انہوں نے مزید کہا کہ اس اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم پر موجود تمام رکن ممالک نے پاکستان کے مؤقف کو سنجیدگی سے لیا اور اس سے اتفاق کیا، جب کہ بھارت اپنی روایت کے مطابق ایک بار پھر جھوٹ پر مبنی بیانیہ لے کر آیا مگر وہ قابل قبول نہیں رہا۔

سندھ طاس معاہدے سے متعلق سوال پر وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کوئی بھی فریق اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اس وقت ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آیا ہے کیونکہ اسے ماضی کی جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ایڈیشنل آئی جی مرزا فاران بیگ کا تبادلہ، نوٹیفکیشن جاری

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مودی حکومت اب اپنے سیاسی زوال کو چھپانے کے لیے جھوٹے بیانیے کا سہارا لے رہی ہے، مگر سچائی چھپ نہیں سکتی اور بھارتی وزیر اعظم کی سیاست اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی فورمز پر ہمیشہ امن اور حقائق کی بات کی ہے اور اس بار بھی SCO میں ہماری سچائی کو تسلیم کیا گیا، جب کہ بھارت کو ایک بار پھر عالمی سطح پر خفت اٹھانا پڑی۔

باٹا پور:خاتون اور اس کے بچوں کو ہراساں کرنیوالا ملزم گرفتار

Ansa Awais Content Writer.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع کہ بھارت

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ