بھارتی گمراہ کن مؤقف دنیا نے تسلیم نہیں کیا، مودی کی سیاست دم توڑ رہی ہے: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک : وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارتی گمراہ کن مؤقف دنیا نے تسلیم نہیں کیا، اب مودی کی سیاست دم توڑ رہی ہے۔
میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے حالیہ اجلاس میں بھارت کی جھوٹی تشہیر اور گمراہ کن مؤقف کو کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا، جب کہ پاکستان کا نقطہ نظر عالمی سطح پر سراہا گیا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران ماحول خوشگوار اور غیر متنازع رہا، تمام کارروائی تنظیم کے قواعد و ضوابط کے تحت انجام دی گئی۔ اجلاس میں کسی ملک کو دوسرے کی تقریر پر تنقید کرنے یا جوابی مؤقف پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے باعث بھارتی وزیر دفاع کو موقع نہیں ملا کہ وہ پاکستان کے مؤقف کو چیلنج کر سکیں۔
انارکلی : مکان کی چھت گر نے سےملبےتلےدب کر5افراد زخمی
انہوں نے مزید کہا کہ اس اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم پر موجود تمام رکن ممالک نے پاکستان کے مؤقف کو سنجیدگی سے لیا اور اس سے اتفاق کیا، جب کہ بھارت اپنی روایت کے مطابق ایک بار پھر جھوٹ پر مبنی بیانیہ لے کر آیا مگر وہ قابل قبول نہیں رہا۔
سندھ طاس معاہدے سے متعلق سوال پر وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کوئی بھی فریق اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اس وقت ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آیا ہے کیونکہ اسے ماضی کی جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ایڈیشنل آئی جی مرزا فاران بیگ کا تبادلہ، نوٹیفکیشن جاری
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مودی حکومت اب اپنے سیاسی زوال کو چھپانے کے لیے جھوٹے بیانیے کا سہارا لے رہی ہے، مگر سچائی چھپ نہیں سکتی اور بھارتی وزیر اعظم کی سیاست اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی فورمز پر ہمیشہ امن اور حقائق کی بات کی ہے اور اس بار بھی SCO میں ہماری سچائی کو تسلیم کیا گیا، جب کہ بھارت کو ایک بار پھر عالمی سطح پر خفت اٹھانا پڑی۔
باٹا پور:خاتون اور اس کے بچوں کو ہراساں کرنیوالا ملزم گرفتار
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع کہ بھارت
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز