ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کیلئے تعمیراتی شعبے کی ترقی کلیدی اہمیت رکھتی ہے؛ وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
سٹی 42 :وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کیلئے تعمیراتی شعبے کی ترقی کلیدی اہمیت رکھتی ہے.
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت کم لاگت رہائشی منصوبوں کیلئے ہاوسنگ کی ٹاسک فورس کا جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.
اجلاس میں وزیرِ اعظم کو حکومت کی جانب سے کم لاگت رہائشی منصوبوں کے اقدامات پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا.
پی ایس ایل 10؛ اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا ٹاکرہ ہوگا
اجلاس کو بتایا گیا کہ کنڈومونیم ایکٹ (Condomonuim Act) 2025 اور فور کلوژئر قانون (Foreclosure Law) میں ترامیم اپنے حتمی مراحل میں ہیں جن کی منظوری کے بعد کم لاگت رہائشی منصوبوں کے تحت گھروں کی تعمیر و ملکیت کیلئے قرضوں کا حصول آسان ہوگا.
اجلاس کو ٹاسک فورس کی جانب سے تعمیراتی شعبے بالخصوص کم لاگت رہائشی منصوبوں کے آغاز سے متعلق اب تک کی پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی.
وزیرِاعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ کم لاگت ہاؤسنگ منصوبوں سے گھروں کے حصول میں آسانی پیدا کرے. انہوں نے کہا کہ کم لاگت ہاؤسنگ منصوبوں سے نہ صرف رہائشی منصوبے عام آدمی کی دسترس میں آئیں گے بلکہ ملکی معیشت ترقی کرے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہونگے.
محکمہ لوکل گورنمنٹ کا نئے برتھ ڈیتھ رولز2025 نافذ ؛7 برس تک رجسٹریشن مفت
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ ٹاسک فورس وزارت خزانہ اور بینکوں کے ساتھ مل کر کم لاگت رہائشی منصوبوں کی فنانسنگ کی سفارشات جلد پیش کرے جسے بجٹ تجاویز کا حصہ بنایا جائے.
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، ریاض حسین پیرزادہ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کم لاگت رہائشی منصوبوں
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔