بجلی مہنگی ؟بجلی صارفین کے لیے بری خبرآ گئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں اپریل کے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں درخواست دائر کر دی ہے، جس میں بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 1 روپے 27 پیسے تک اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔نیپرا نے اس درخواست پر 29 مئی کو سماعت مقرر کی ہے، جس کے بعد حتمی فیصلہ جاری کیا جائے گا۔
درخواست کے مطابق اپریل 2025 میں ملک بھر میں 10 ارب 51 کروڑ 30 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ تقسیم کار کمپنیوں کو 10 ارب 19 کروڑ 60 لاکھ یونٹس فراہم کی گئیں۔ اپریل میں بجلی کی اوسط پیداواری لاگت 8.
اس عرصے میں بجلی کی پیداوار کا 21.94 فیصد پانی سے، 14.51 فیصد مقامی کوئلے سے، 10.02 فیصد درآمدی کوئلے سے، 0.97 فیصد فرنس آئل سے، 8.01 فیصد مقامی گیس سے، 20.52 فیصد درآمدی ایل این جی سے اور 17.91 فیصد جوہری ایندھن سے ہوئی۔
اگر نیپرا درخواست منظور کر لیتا ہے تو صارفین کو بجلی کے بلوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔