بلوچستان میں بھارت اور بی ایل اے کا ناپاک گٹھ جوڑبے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
بھارتی حکومت کے زیر سرپرستی راجستھان میں پاکستان میں دہشتگردوں کی تربیت کیلئے 21 کیمپ موجود ہیں
کلبھو شن یادیو کا پاکستان میں دہشتگردی کی سہولت کاری کا واضح اعتراف بھی موجود ہے؛ سیکورٹی ذرائع
پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کروانے میں بلوچستان لبریشن آرمی کی سہولت کاری بے نقاب ہوگئی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن بنیان مرصوص میں ہزیمت اٹھانے کے بعد بھارتی سپانسرڈ پراکسیز پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے لگی ہیں، 10 مئی 2025کے بعد بھارت کے مختلف نامی اور بے نامی سوشل میڈیا ہینڈلزر نے بلوچستان پر حملوں کی دھمکیاں دیں، بھارتی سپانسرڈ کالعدم بی ایل اے کے ذریعے بھارت بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے میں سرگرم ہے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 21 مئی کو خضدار میں بی ایل اے کا اسکول بس پر بزدلانہ خودکش حملہ اسی سازش کی کڑی ہے، دہشت گرد حملے میں تین معصوم بچوں سمیت پانچ افراد شہید جب کہ متعدد بچے شدید زخمی ہوئے ہیں، مودی حکومت بھارتی عوام کی اپنی شکست سے توجہ ہٹانے کے لیے پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کی متعدد پریس بریفنگز میں بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی کے شواہد منظر عام پر لائے جا چکے ہیں۔سکیورٹی ذرائع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کے زیر سرپرستی ریاست راجستھان میں پاکستان میں دہشتگردوں کی تربیت کیلئے 21 کیمپ موجود ہیں، بھارتی جاسوس کلبھو شن یادیو کا پاکستان میں دہشتگردی کی سہولت کاری کا واضح اعتراف موجود ہے، جعفر ایکسپریس حملے میں دہشت گرد بھارتی سہولت کاروں سے افغانستان میں را بطے میں تھے، بھارت کی سیاسی قیادت اور بھارتی میڈیا پاکستان میں بی ایل اے جیسیدہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں، بھارت کی ریاستی دہشتگردی پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے، بھارت سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا کر دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے تاہم پاکستان اس بھارتی دہشتگردی کی ہر شکل کو پاکستان سے جڑ سے اکھاڑے کر رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پاکستان میں دہشت بی ایل اے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔