Juraat:
2026-06-03@00:12:08 GMT

بلوچستان میں بھارت اور بی ایل اے کا ناپاک گٹھ جوڑبے نقاب

اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT

بلوچستان میں بھارت اور بی ایل اے کا ناپاک گٹھ جوڑبے نقاب

بھارتی حکومت کے زیر سرپرستی راجستھان میں پاکستان میں دہشتگردوں کی تربیت کیلئے 21 کیمپ موجود ہیں
کلبھو شن یادیو کا پاکستان میں دہشتگردی کی سہولت کاری کا واضح اعتراف بھی موجود ہے؛ سیکورٹی ذرائع
پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کروانے میں بلوچستان لبریشن آرمی کی سہولت کاری بے نقاب ہوگئی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن بنیان مرصوص میں ہزیمت اٹھانے کے بعد بھارتی سپانسرڈ پراکسیز پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے لگی ہیں، 10 مئی 2025کے بعد بھارت کے مختلف نامی اور بے نامی سوشل میڈیا ہینڈلزر نے بلوچستان پر حملوں کی دھمکیاں دیں، بھارتی سپانسرڈ کالعدم بی ایل اے کے ذریعے بھارت بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے میں سرگرم ہے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 21 مئی کو خضدار میں بی ایل اے کا اسکول بس پر بزدلانہ خودکش حملہ اسی سازش کی کڑی ہے، دہشت گرد حملے میں تین معصوم بچوں سمیت پانچ افراد شہید جب کہ متعدد بچے شدید زخمی ہوئے ہیں، مودی حکومت بھارتی عوام کی اپنی شکست سے توجہ ہٹانے کے لیے پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کی متعدد پریس بریفنگز میں بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی کے شواہد منظر عام پر لائے جا چکے ہیں۔سکیورٹی ذرائع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کے زیر سرپرستی ریاست راجستھان میں پاکستان میں دہشتگردوں کی تربیت کیلئے 21 کیمپ موجود ہیں، بھارتی جاسوس کلبھو شن یادیو کا پاکستان میں دہشتگردی کی سہولت کاری کا واضح اعتراف موجود ہے، جعفر ایکسپریس حملے میں دہشت گرد بھارتی سہولت کاروں سے افغانستان میں را بطے میں تھے، بھارت کی سیاسی قیادت اور بھارتی میڈیا پاکستان میں بی ایل اے جیسیدہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں، بھارت کی ریاستی دہشتگردی پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے، بھارت سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا کر دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے تاہم پاکستان اس بھارتی دہشتگردی کی ہر شکل کو پاکستان سے جڑ سے اکھاڑے کر رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: پاکستان میں دہشت بی ایل اے

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود