برطانوی سیاسی تاریخ کا منفرد اعزاز ڈاکٹر زاہد چوہان نے اپنے نام کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
لندن (اوصاف نیوز)پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کیلئے قابل فخر لمحات جب پہلی مرتبہ کسی پاکستانی اور کشمیری نژاد شخصیت کو ’’لائف ٹائم اعزازی فری مین آف اولڈھم‘‘ کا اعزاز دیا گیا۔
اولڈھم کے سالانہ کونسل اجلاس میں تاریخی فیصلہ متفقہ طور پر ممتاز کشمیری نژاد پاکستانی شخصیت دو مرتبہ میئر منتخب ہونے والے ڈاکٹر زاہد چوہان کو ’’اعزازی فری مین آف دی بارو آف اولڈھم‘‘ مقرر کیا گیا۔
یہ اولڈھم کونسل کی طرف سے دیا جانے والا سب سے اعلیٰ شہری اعزاز ہے، جو اُن افراد کو دیا جاتا ہے جنہوں نے کمیونٹی کی مثالی خدمت کی ہو۔
یہ اعزاز نہ صرف ڈاکٹر زاہد چوہان کی دہائیوں پر محیط عوامی خدمت کا اعتراف ہے، بلکہ پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے لیے بھی ایک قابلِ فخر لمحہ ہے۔
ڈاکٹر زاہد چوہان نے منفرد اور تاریخی اعزاز حاصل کرنے کے بعد جرنلسٹ جنگ جیو اورنگزیب چوہدری سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ یہ کسی بھی کونسل کی طرف سے دیا جانے والا سب سے بڑا شہری اعزاز ہے، جو اُن افراد کو دیا جاتا ہے جنہوں نے بارو اور اس کی کمیونٹیز کی غیر معمولی خدمت کی ہو۔
انہوں نے کہا کہ میں اولڈھم کا پہلا ایشیائی ہوں جسے یہ اعزاز دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں باضابطہ تقریب سال کے آخر میں منعقد ہوگی، لیکن میں اس موقع پر ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس سفر میں میرا ساتھ دیا۔ یہ اعزاز عوامی خدمت اور کمیونٹی کی اقدار کی عکاسی کرتا ہے، اور میں فخر کے ساتھ اس بڑے اعزاز کو اپنے لوگوں کے نام کرتا ہوں۔
ڈاکٹر زاہد چوہان برطانیہ میں بے گھر افراد کی مدد کے لیے قائم چیرٹی ہوم لیس فرینڈلی کے پلیٹ فارم سے کیے جانے والی خدمات کے حوالے سے عالمی شہرت رکھتے ہیں، انہیں ملکہ برطانیہ کی طرف سے بڑا اعزاز OBE بھی مل چکا ہے۔
پاکستان کا جوابی اقدام: بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیکر ملک چھوڑنے کا حکم
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔