وفاقی بجٹ 2025-26: کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں ہوگا: حذیفہ رحمان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
ویب ڈیسک: آئندہ مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ کے حوالے سے اہم خبر ، وفاقی بجٹ 2 جون 2025 کو پیش کیا جائے گا جس میں حکومت کی جانب سے عوام کو بڑا ریلیف دیے جانے کا امکان ہے۔
وزیر مملکت برائے قومی ورثہ حذیفہ رحمان نے تصدیق کی ہے کہ آئندہ بجٹ میں عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کو مزید بوجھ سے بچانا ہے۔
خصوصی بچوں کےسکولوں کے اوقات کار میں کمی
حذیفہ رحمان نے دفاعی بجٹ سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں دفاع یا جنگ سے متعلق کوئی نیا مخصوص ٹیکس نہیں لگایا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، اور حکومت دفاعی ضروریات کو بخوبی سمجھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوج کو بجٹ، جدید ٹیکنالوجی اور وسائل فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر ڈیفنس بجٹ سے متعلق غیر ضروری مبالغہ آرائی سے گریز کیا جانا چاہیے۔
لاہور میں تیز ہوائیں چلنے سے گرمی کی شدت میں کمی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔