سیاحتی مقام بابو سر ٹاپ کو 6 ماہ بعد ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
بالاکوٹ: (دنیا نیوز) سیاحتی مقام بابو سر ٹاپ کو چھ ماہ بعد ہر قسم کی ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) حکام کے مطابق گلگت بلتستان آنے اور جانے والے مسافر اب براستہ ناران سفر کر سکیں گے، ہیوی مشینری نے 6 سے زائد گلیشیئرز کاٹ کر راستہ بحال کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ راستہ بحال ہونے سے سیاحوں کی بڑی تعداد کی آمدورفت جاری ہے، انتظامیہ کی جانب سے شاہراہ بابو سر پر تمام پولیس چوکیاں بھی فعال ہوگئی ہیں۔
یاد رہے کہ برف باری کے باعث سیاحتی مقام بابو سرٹاپ 6 ماہ سے ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند تھا۔
نئی دہلی میں طوفانی ہواؤں اور بارشوں سے نظام زندگی درہم برہم، درخت اکھڑ گئے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔