بھارت کو سفارتی محاز پر بھی عبرتناک شکست،پاکستان، افغانستان اور چین کا سہ فریقی اتحاد کلیدی حیثیت اختیار کر گیا ۔
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
بھارت کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے مابین اختلافات پیدا کرنے کی مسلسل کوششیں ایک بار پھر ناکامی سے دوچار ہو گئی ہیں۔ خطے میں استحکام، ترقی اور باہمی تعاون کی نئی فضا قائم ہو چکی ہے، جس میں پاکستان، افغانستان اور چین کا سہ فریقی اتحاد کلیدی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ علاقائی سفارتی سرگرمیوں میں تیزی اور حالیہ اعلیٰ سطحی روابط نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ان تعلقات کی مضبوطی میں چین نے نہ صرف ثالث بلکہ ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کا کردار ادا کیا ہے۔ چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) میں افغانستان کی باضابطہ شمولیت اس سہ فریقی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز ہے، جو بھارت کے تخریبی عزائم کو کاری ضرب لگا چکا ہے۔ وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی ملاقات اس پیشرفت کی ایک اہم کڑی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے حالیہ سفارتی دوروں اور مشترکہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے تجارت، سلامتی، ٹرانزٹ، اور خطے میں رابطوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کو تنہا کرنے اور افغانستان کو پاکستان سے دور کرنے کے لیے بیانیے تراشنے کی کوششیں اب زمینی حقیقتوں سے متصادم نظر آتی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثقافتی، مذہبی اور تاریخی رشتے اب ایک اسٹریٹجک شراکت داری میں ڈھل رہے ہیں جسے چین کی سیاسی اور اقتصادی حمایت حاصل ہے۔ سی پیک کا مغربی توسیعی منصوبہ نہ صرف افغانستان کو گوادر سے جوڑنے کا ذریعہ بنے گا بلکہ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارت و ترقی کے دروازے بھی کھولے گا۔ اس پیشرفت نے بھارت کے اس پروپیگنڈے کی حقیقت کو عیاں کر دیا ہے جس کے ذریعے وہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی تفرقہ انگیز پالیسیوں کے برعکس پاکستان، افغانستان اور چین ایک پُرامن، مربوط اور ترقی یافتہ خطے کی تشکیل کی راہ پر گامزن ہیں۔ یہ اتحاد نہ صرف سفارتی محاذ پر بلکہ اقتصادی میدان میں بھی ایک طاقتور اور پائیدار بیانیہ پیش کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اور افغانستان کے
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔