قومی اسمبلی میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو اعلان جنگ تصور کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
قومی اسمبلی میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو اعلان جنگ تصور کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور WhatsAppFacebookTwitter 0 22 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )قومی اسمبلی نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کو اعلان جنگ تصور کرنے کی متفقہ قرارداد منظور کرلی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایازصادق کی صدارت میں ہوا جس کے آغاز پر اپوزیشن رکن اقبال آفریدی نے کورم کی نشاندہی کردی جس کی وجہ اجلاس میں پندرہ منٹ کیلئے ایوان کی کاروائی معطل کی گئی۔
وقفہ سوالات کے بعد ضمنی ایجنڈے میں وفاقی وزیر علی پرویزملک نے گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس پر لیوی عائد کرنے کا بل 2025 پیش کیا جس کو اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود منظور کرلیا گیا۔ رگیس پر چلنے والے پاورپلانٹس بل 2025میں نجی کیپٹو پاور پلانٹس پر پہلے مرحلے میں پانچ فیصد لیوی عائد کی جائے گی جسے بعد میں دس اور پھر بیس فیصد تک بڑھایا جائے گا۔
قومی اسمبلی میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے خلاف وفاقی وزیر آبی وسائل میاں معین وٹو نے قرارداد پیش کی جسکو ایوان نے متفقہ طورپر منظور کرلیا گیا۔قرارداد میں کہا گیا ہیکہ بھارت کے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو یہ ایوان اعلان جنگ تصور کرتا ہے حکومت پاکستان اس معطلی کے خلاف اقدامات اٹھائے۔
پی ٹی آئی رکن اقبال آفریدی نے کہا کہ بھارت کو پہلے بھی شکست دی ہے اب وہ پراکسیزکے ذریعے دہشتگردی پر اتر آیا ہے، اس میدان میں بھی اسے شکست دیں گے۔بلوچستان سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی میاں خان بگٹی نے کہا کہ خضدار بس حملے میں بھارت ملوث ہے ہم بھارت کی پراکسیز کو شکست دیں گے۔
پیپلز پارٹی رکن قومی اسمبلی اعجاز جاکھرانی نے کہا کہ پانی ہماری زندگی ہے اور ہم زندگی پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے مودی یہ کان کھول کر سن لے۔توجہ دلا نوٹس پر حج متبادل اور عازمین حج کیکھانے معیار پر وفاقی وزیر سردار یوسف نے ایوان کو یقین دلایا کہ ارکان نشاندہی کریں مسائل حل کئے جائیں۔ اسلام آباد ڈیرہ غازی خان موٹروے کی عدم موجودگی کے خلاف توجہ دلاونوٹس پر پارلیمانی سیکرٹری مواصلات گل اصغر خان نے کہا کہ اگلے اس موٹروے کی فزییبلٹی کے لئے رقم رکھی جائے گی قومی اسمبلی اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمعاون خصوصی ہارون اختر خان سے عاطف اکرام شیخ کی قیادت میں وفد کی ملاقات معاون خصوصی ہارون اختر خان سے عاطف اکرام شیخ کی قیادت میں وفد کی ملاقات پی آئی اے کا لاہور سے بھی پیرس کیلئے براہ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 86 کارکنان کی ضمانتیں منظور کرلیں ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرر کانفرنس،بھارت کے خلاف جنگ میں سیاسی قیادت کے کردار کی بھرپور ستائش بھارتی براڈ کاسٹرز کی غیر موجودگی :پی ایس ایل پلے آف میچز ڈی آر ایس سمیت اہم ٹیکنالوجیز سے محروم وزیر اعظم شہباز شریف اگلے ہفتے ترکیہ، ایران اور آذربائیجان کا ہنگامی دورہ کریں گےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے کی معطلی اعلان جنگ تصور قومی اسمبلی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔