اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے وفاقی اداروں میں کرپشن میں ملوث ملازمین کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کردی، جس میں بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے گزشتہ 3 سال کے دوران کرپشن میں ملوث سرکاری اداروں کے 3 ہزار 500 ملازمین کو گرفتار کیا ہے۔

نجی چینل کے مطابق ایف آئی اے کی قومی اسمبلی میں پیش کی گئی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کرپشن میں ملوث 8 ہزار 784 ملازمین کے خلاف انکوائریاں شروع کی گئیں، انکوائریوں کے بعد 3 ہزار 479 مقدمات درج کیے گئے۔

ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف کرپشن پر 2 ہزار 206 مقدمات درج کرکے انہیں عدالتوں میں پیش کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 3 سال کے دوران کرپشن میں ملوث 432 ملازمین کو عدالتوں کی جانب سے سزائیں دی گئیں۔

رواں سال 2025 کے ابتدائی 3 ماہ جنوری سے مارچ میں کرپشن میں ملوث 263 سرکاری ملازمین کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

رواں سال کے ابتدائی 3 ماہ میں 762 انکوائریوں کے بعد 185 مقدمات درج کیے گئے، جنوری سے مارچ 2025 کے دوران کرپشن ثابت ہونے پر 16 ملازمین کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال فروری میں جاری کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) 2024 میں پاکستان کی رینکنگ 2 درجے تنزلی سے 180 ممالک میں سے 135 پر آگئی، جو 2023 میں 133 ویں درجے پر رہی تھی۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق کہ سی پی آئی، دنیا بھر کے ملکوں میں پبلک سیکٹر میں بدعنوانی کی سطح کے لحاظ سے صفر (انتہائی بدعنوان) سے 100 (انتہائی شفاف) کے پیمانے پر درجہ بندی کرتا ہے۔

رینجرز اور سی ٹی ڈی کی خفیہ کارروائی، فتنہ الخوارج کے 3 انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کرپشن میں ملوث ملازمین کو ایف آئی اے میں پیش

پڑھیں:

امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد

واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی: گھر میں لاکھوں روپے کی چوری کا ڈراپ سین، قریبی رشتہ دار ہی ملوث نکلا
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع