3 سال میں وفاقی اداروں کے 3 ہزار 500 کرپٹ ملازمین گرفتار، رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے وفاقی اداروں میں کرپشن میں ملوث ملازمین کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کردی، جس میں بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے گزشتہ 3 سال کے دوران کرپشن میں ملوث سرکاری اداروں کے 3 ہزار 500 ملازمین کو گرفتار کیا ہے۔
نجی چینل کے مطابق ایف آئی اے کی قومی اسمبلی میں پیش کی گئی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کرپشن میں ملوث 8 ہزار 784 ملازمین کے خلاف انکوائریاں شروع کی گئیں، انکوائریوں کے بعد 3 ہزار 479 مقدمات درج کیے گئے۔
ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف کرپشن پر 2 ہزار 206 مقدمات درج کرکے انہیں عدالتوں میں پیش کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 3 سال کے دوران کرپشن میں ملوث 432 ملازمین کو عدالتوں کی جانب سے سزائیں دی گئیں۔
رواں سال 2025 کے ابتدائی 3 ماہ جنوری سے مارچ میں کرپشن میں ملوث 263 سرکاری ملازمین کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
رواں سال کے ابتدائی 3 ماہ میں 762 انکوائریوں کے بعد 185 مقدمات درج کیے گئے، جنوری سے مارچ 2025 کے دوران کرپشن ثابت ہونے پر 16 ملازمین کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ رواں سال فروری میں جاری کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) 2024 میں پاکستان کی رینکنگ 2 درجے تنزلی سے 180 ممالک میں سے 135 پر آگئی، جو 2023 میں 133 ویں درجے پر رہی تھی۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق کہ سی پی آئی، دنیا بھر کے ملکوں میں پبلک سیکٹر میں بدعنوانی کی سطح کے لحاظ سے صفر (انتہائی بدعنوان) سے 100 (انتہائی شفاف) کے پیمانے پر درجہ بندی کرتا ہے۔
رینجرز اور سی ٹی ڈی کی خفیہ کارروائی، فتنہ الخوارج کے 3 انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کرپشن میں ملوث ملازمین کو ایف آئی اے میں پیش
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔