پارلیمانی کمیٹی کی تجویز بڑی امپورٹنٹ، قوم ایک پیج پر ہے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
لاہور:
گروپ ایڈیٹر ایکسپریس ایاز خان کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کی تجویز بڑی امپورٹنٹ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس پر ڈسکس کر رہے ہیں کہ اس وقت ماحول بنا ہوا ہے ہم آہنگی کا، پوری قوم بھی آپ کو ایک پیج پر نظر آتی ہے، ظاہر ہے جب ملکی دفاع کا ایشو ہو گا ایڈیا کی جارحیت ہو گی تو اس قوم کااسی طرح کا رسپانس آئے گا اس میں تو کئی شک نہیں ہے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ایکسپرٹس میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ایک تشویش کی لہر مجھے نہیں پتہ کیوں (ن) لیگ کی صفوں میں اس وقت بڑی تیزی اور شدت سے دوڑ رہی ہے، ایک عجیب سا خوف مجھے (ن) لیگ کی صفوں میںاس وقت دوڑتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
تجزیہ کار فیصل حسین نے کہا کہ اس وقت ہماری جو فوجی لیڈرشپ ہے اس کی گفتگو اور عمل میں کوئی فرق نہیں ہے، استعداد ہے اس کے حوالے سے فوجی لیڈر شپ کے جو جو دعوے ہیں وہ بالکل سو فیصد درست ثابت ہوئے ہیں۔
تجزیہ کار خالد قیوم نے کہا کہ جس طرح بھارت کے ساتھ جنگ میں پوری قوم، چوبیس کروڑ عوام، اور پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کے باوجود افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی تھیں، سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت کا ایک ماحول تھا، یکجہتی اور اتحاد کا ایک پیغام گیا میں سمجھتا ہوں کہ اب بھی پارلیمان کے اندر ایک پارلیمانی کمیٹی ضرور تشکیل ہونی چاہیے۔
تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا کہ دیکھیں بات یہ ہے کہ کور کمانڈرز نے سیاسی قیادت کے جو دوراندیشی ہے اور اس کی رہنمائی کو خراج تحسین پیش کیا ہے، ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام ہماری طاقت کا سرچشمہ ہیں، تجزیہ کار محمد الیاس نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی اس وقت جو تجویز سامنے آئی ہے یہ بڑی اہم بات ہے کیونکہ اس وقت پوری قوم ایک پیج پر ہے، پوری قوم ایک ساتھ ہے، پاک فوج کے ساتھ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پارلیمانی کمیٹی تجزیہ کار نے کہا کہ پوری قوم
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔