بھارت میں پاکستانی فنکاروں پر پابندی کے باوجود علی خان بھارتی ویب سیریز میں نمایاں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
بھارت میں پاکستانی فنکاروں پر پابندی عائد ہونے کے باوجود بھی پاکستانی اداکار علی خان نئی بھارتی ویب سیریز میں نمایاں کردار ادا کرتے نظر آئے۔
پاک بھارت کشیدگی کے دوران 9 مئی کو نیٹ فلکس پر بھارتی ویب سیریز ’دی رائلز‘ ریلیز ہوئی جس میں پاکستانی اداکار علی خان نے شاہی سازشوں اور اقتدار کی کشمکش میں گرفتار ’نواب آف ڈھونڈی‘ کا اہم کردار ادا کیا۔
سیریز میں دیگر اداکاروں کی نسبت علی خان کی کارکردگی نمایاں رہی اور اُنہوں نے ناظرین و ناقدین سے یکساں داد وصول کی جبکہ اگر پوری سیریز کی بات کی جائے تو شائقین نے ملے جلے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
علی خان کی بھارتی ویب سیریز میں زبردست اداکاری نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور کئی سوشل میڈیا صارفین پاکستانی مواد اور فنکاروں پر بھارت کی جانب سے مکمل پابندی عائد کرنے کا مشورہ دیتے نظر آ رہے ہیں۔
بھارتی حکام نے بھارتی فلموں کے پوسٹرز سے پاکستانی اداکاروں کے نام اور چہروں کو ہٹا دیا، پاکستانی یوٹیوب چینلز کو بھارت میں بلاک کر دیا یہاں تک کہ پاکستانی فنکاروں کے سوشل میڈیا پلیٹ اکاؤنٹس کو بھی بھارت میں بلاک کر دیا ہے۔
ایسی صورتحال میں ایک اعلیٰ بجٹ والی بھارتی ویب سیریز میں علی خان کی نمایاں موجودگی کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی ویب سیریز میں بھارت میں علی خان
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔