بھارت خطے کے امن کو سبوتاژ کر رہا ہے، دہشتگردوں کو فنڈنگ بھی فراہم کرتا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
وفاقی سیکرٹری داخلہ اور ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اسلام آباد میں مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کیا، جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، بھارتی اقدامات اور حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت خطے میں امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت نہ صرف دہشتگرد گروہوں کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے بلکہ ان کی سرپرستی بھی کرتا ہے تاکہ پاکستان میں بدامنی پھیلائی جا سکے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد سے ہی بھارت بد امنی کے لیے سرگرم ہے۔ مکتی باہنی کا قیام اور سقوط ڈھاکا اس کی واضح مثالیں ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت پاکستان خضدار خضدار اسکول بس حملہ ڈی جی آئی ایس پی آر سندھ طاس سندھ طاس معاہدہ لیفٹینٹ جنرل احمد شریف چوہدری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان خضدار اسکول بس حملہ ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر سندھ طاس معاہدہ لیفٹینٹ جنرل احمد شریف چوہدری ایس پی
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔