پولینڈ کے سفیر کی ضلع خضدار میں اسکول بس پر حملے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
اسلام آباد:
پولینڈ کے سفیر میچی پِسارسکی نے بلوچستان کے ضلع خضدار میں اسکول کے بچوں پر ہونے والے حالیہ دہشتگرد حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
پولینڈ کے یوم آئین کے موقع پرپولینڈ کے سفارتخانے میں پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں سفارتکاروں، ارکان پارلیمنٹ، سرکاری افسران اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پولینڈ کے سفیر میچی پِسارسکی نے خضدار میں اسکول کے بچوں پر ہونے والے حالیہ دہشتگرد حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی زندگی، مستقبل اور خوابوں کو کچلنا انسانیت سے ماورا اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔ کوئی بھی مقصد اتنے گھناؤنے عمل کو جائز نہیں ٹھہرا سکتا۔
انہوں نے دنیا بھر سے مطالبہ کیا کہ وہ معصوم جانوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے متحد ہو جائے۔ عالمی سطح پر جاری تنازعات کے پس منظر میں سفیر پِسارسکی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ روسی قیادت بھی ایسے ذمہ دار رویے کو اپنائے۔
انہوں نے یوکرین کے ساتھ پولینڈ کی مسلسل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ سفیر نے پاکستان اور پولینڈ کے درمیان گہرے تاریخی تعلقات کا بھی ذکر کیا خصوصاً ان پولش ہوابازوں کی خدمات کا جنہوں نے پاکستان فضائیہ کے ابتدائی ایام میں اہم کردار ادا کیا، جن میں ائیر کموڈور ولاڈی سلاو تورووچ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم صرف تاریخ نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ اپنی پائیدار دوستی کا بھی جشن منا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاک پولینڈ دوستی زندہ باد محض نعرہ نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے باہمی تعاون کی حقیقت ہے، انہوں نے کہا، اور تجارتی و سرمایہ کاری کے شعبے میں پیش رفت کا ذکر کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا پولینڈ کے
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر