وفاقی وزیر آبی وسائل معین وٹو نے مہمند ڈیم کے فیز ٹو کا افتتاح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
وفاقی وزیر آبی وسائل معین وٹو نے مہمند ڈیم کے فیز ٹو کا افتتاح کر دیا۔
معین وٹو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے پر اب بھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے، کام کی رفتار حوصلہ افزا ہے، چاہتا ہوں ڈیم 2027ء سے پہلے بن جائے۔
اُنہوں نے کہا کہ منصوبے کی تاخیر پر تشویش ہے، امید ہے مقررہ ہدف ہر صورت میں حاصل ہوگا، پانی کو ذخیرہ کرنے کے بہت سارے منصوبے زیرِ غور ہیں۔
اسلام آباد بھارت کی جانب سے 23 اپریل 2025 کو پہلگام حملے.
وفاقی وزیر آبی وسائل نے کہا کہ پینے کے پانی کا مسئلہ ہے مگر فی الحال خطرناک صورتحال نہیں، بھارت نے پانی روکنے کا لفظ استعمال کیا ہے، سندھ طاس معاہدے میں پانی روکنے کا لفظ استعمال نہیں ہوا، معاہدے کے مطابق دونوں ممالک مشترکہ و متفقہ فیصلہ کریں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی قانونی پوزیشن اب بھی برقرار ہے، معاہدہ یک طرفہ ختم اور معطل نہیں ہوسکتا، ہم بھارت کے خلاف ہر فورم سے بات کریں گے، عالمی عدالت جا سکتے ہیں، اقوامِ متحدہ سے بات کر سکتے ہیں۔
معین وٹو نے کہا کہ ہم کسی صورت معاہدے کی معطلی برداشت نہیں کریں گے، کسی کو پانی کا حق چھیننے نہیں دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: معین وٹو نے نے کہا کہ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :