بھارت دنیا بھر میں ٹارگٹ کلنگ کی سرپرستی کرتا ہے، سلامتی کونسل میں پاکستانی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
NEWYORK:
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی مندوب صائمہ سلیم نے بھارت کے جارحانہ بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا بھر میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی سرپرستی کررہا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کھلے مباحثے کے دوران ہندوستان کے بیان پر پاکستانی مندوب صائمہ سلیم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرا وفد ہندوستانی وفد کے ریمارکس کے جواب میں بات کرنے پر مجبور ہوا ہے، ہندوستان نے ایک بار پھر گمراہ کن معلومات، انحراف اور انکار کا سہارا لیا ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ میں ہندوستانی نمائندے کو یاد دلانا چاہتی ہوں کہ یہ کھلا مباحثہ مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ پر ہے، کسی بھی قسم کی گول مول باتیں ان حقائق کو نہیں چھپا سکتیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہریوں کو بےدریغ قتل اور زخمی کرتا ہے، پاکستان پر بلا اشتعال حملے کرکے جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بناتا ہے اور نہ صرف میرے ملک بلکہ دنیا بھر میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی سرپرستی کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان نے یہاں تک کہ دریاؤں کے بہاؤ روکنے کی کوشش کی ہے جو پاکستان کے 24 کروڑ عوام کے لیے زندگی کی علامت ہیں، پانی زندگی ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر پہلگام واقعے کی مذمت کی، اگر ہندوستان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں تھا تو اسے چاہیے تھا کہ وہ اس واقعے کی غیر جانب دار، معتبر اور آزادانہ تحقیقات پر رضامند ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس ہندوستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے ذریعے کشمیری عوام کی جائز آزادی کی جدوجہد کو دبانے میں مصروف ہے۔
صائمہ سلیم نے مباحثے میں کہا کہ 6 تا 10 مئی کے دوران ہندوستان نے پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت کا ارتکاب کیا، بلااشتعال حملے کرکے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جس میں 40 شہری شہید ہوئے، جن میں 7 خواتین اور 15 بچے شامل ہیں، 121 افراد زخمی ہوئے جن میں 10 خواتین اور 27 بچے شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کو شہریوں کے تحفظ پر دوسروں کو درس دینے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں، پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششیں اور قربانیاں عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں اور ہم اس ناسور کے خاتمے کے لیے اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری جانب ہندوستان مسلسل دہشت گرد گروہوں کو مالی اور عملی مدد فراہم کرتا ہے، جن میں کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ شامل ہیں، جن کا مقصد پاکستان میں معصوم شہریوں کا قتل ہے۔
پاکستانی مندوب نے بتایا کہ صرف دو دن قبل بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک اسکول بس پر بزدلانہ حملے میں معصوم بچوں کی جانیں لی گئیں اور درجنوں زخمی ہوئے، اگر ہندوستان واقعی امن، سلامتی اور اچھے ہمسائیگی کے اصولوں پر کاربند ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ ریاستی دہشت گردی بند کرے، کشمیری عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ ختم کرے، بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور اور دوطرفہ معاہدوں کی پاسداری کرے۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر کے تنازع کے پرامن حل کے لیے بامعنی مذاکرات کا آغاز کرے جیسا کہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل صائمہ سلیم نے کہا کہ انہوں نے کرتا ہے کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔