پاکستان دہشتگردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
لندن (اوصاف نیوز)انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس اینڈ پیس (Institute for Economics and Peace) کی جانب سے شائع کردہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان 2024 میں دہشتگردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر رہا۔
اس سال پاکستان میں دہشت گردی کے 1,099 واقعات پیش آئے، جن میں 1,081 افراد جاں بحق ہوئے، جو کہ 2023 کے مقابلے میں 45 فیصد اضافہ ہے۔
یہ اعداد و شمار نہ صرف دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ ملک کی سلامتی کی صورتحال پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں۔
2025 میں بھی دہشت گردی کے واقعات جاری ہیں، جن میں حالیہ بلوچستان میں اسکول بس پر حملہ شامل ہے، جس میں تین بچیاں اور دو فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے۔جبکہ ٹیررازم انڈیکس 2025 کے مطابق، برکینا فاسو دنیا کا سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک ہے۔
یہ مسلسل دوسرے سال اس فہرست میں پہلے نمبر پر رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ساحل (Sahel) خطے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردانہ سرگرمیاں ہیں، جہاں شدت پسند گروہوں جیسے القاعدہ اور داعش سے منسلک تنظیموں کی کارروائیاں جاری ہیں۔
پاکستانی کوہ پیما نائلہ کیانی نے دنیا کی تیسری بلند ترین12 ویں چوٹی سر کر لی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک