اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے خضدار حملے کو بزدلانہ اور قابلِ نفرت فعل قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے خضدار میں اسکول بس پر دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس کو بزدلانہ اور قابلِ نفرت فعل قرار دے دیا۔
سلامتی کونسل کی جانب سے جاں بحق افراد کے لواحقین سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا جبکہ زخمیوں کی جلد صحتیابی کےلیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا گیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کہا کہ حملے میں 4 بچوں سمیت 6 پاکستانی جاں بحق اور 53 زخمی ہوئے ہیں۔ دہشت گردی عالمی امن و سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے، ذمے داروں، مالی مدد گاروں اور منصوبہ سازوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
سلامتی کونسل کی جانب سے تمام ریاستوں سے پاکستان سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ دہشت گردی کسی بھی صورت اور مقصد سے جائز نہیں ہو سکتی۔
سلامتی کونسل نے عالمی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے پر زور دیا۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل نے اقوام متحدہ
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔