فتنہ ہندوستان خضدار حملہ میں ملوث، خطرناک نتائج بھگتنا ہونگے، سیکرٹری داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی سیکرٹری داخلہ اکبردرانی نے کہا ہے کہ خضدار حملہ فتنہ ہندوستان کا تسلسل ہے،دہشتگردوں کو خضدار حملے کے خطرناک نتائج بھگتنا ہونگے۔
وفاقی سیکرٹری داخلہ اکبر درانی نے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ خضدار میں دہشتگردی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، فتنہ الہندوستان نے سکول کے بچوں کو نشانہ بنایا، ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا کہ خضدار حملہ فتنہ ہندوستان کا تسلسل ہے،فتنہ الہندوستان نے خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی،وفاقی سیکرٹری داخلہ نے کہاکہ پاکستان کے عوام دہشتگردی کی مذموم کوشش کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے،دہشتگردوں کو خضدار حملے کے خطرناک نتائج بھگتنا ہونگے ،ان کاکہناتھا کہ خضدار حملہ ہماری تعلیم اور روایات پر حملہ تھا، متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ویڈیو: "گاؤں میں پہلی محبت کی شادی ہماری تھی" بوڑھے میاں بیوی کی کہانی سن کر آپ بھی کہیں گے سچی محبت اسے کہتے ہیں
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سیکرٹری داخلہ خضدار حملہ
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک