پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان کیا بات چیت ہوئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کا پرائمری سرپلس کا ہدف 1.6 فیصد مقرر ہے جبکہ آئندہ دنوں میں بجٹ پر مزید بات چیت جاری رہے گی، پروگرام کے تحت مالی نظم و ضبط برقرار رکھا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف مشن کا دورہ پاکستان مکمل ہو گیا، اس دوران مالی سال 26-2025ء کے بجٹ پر حکام سے تعمیری بات چیت ہوئی۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کا پرائمری سرپلس کا ہدف 1.
اعلامیے کے مطابق معاشی پالیسی کے لیے مانیٹری پالیسی سخت بنائی جائے، اسٹیٹ بینک افراط زر کو مدنظر رکھتے ہوئے مانیٹری پالیسی بنائے، آئندہ مالی سال زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھے جائیں، کرنسی کا ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کے مطابق رکھا جائے تاکہ بیرونی دباؤ کو برداشت کر سکے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دورہ پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون کے مشکور ہیں، تعمیری بات چیت کرنے پر حکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں، پاکستان کی معاشی پالیسی میں استحکام کے لیے کاربند رہنا قابل ستائش ہے، پاکستان کے ساتھ بات چیت مثبت انداز میں آئندہ بھی جاری رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جاری رہے گی آئی ایم ایف ایم ایف کے کے مطابق بات چیت گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔