مسافروں کو نشہ آور اشیا کھیلا کر لوٹنے والے گینگ کا سرغنہ، اسٹیج ڈراموں کا پروڈیوسر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
دوران سفر مسافروں کو نشہ اوور اشیاء کھیلا کر لوٹنے والے گینگ کے سرغنہ کو گرفتار کر لیا گیا، ملزم اسٹیج ڈراموں کا پروڈیوسر بھی ہے جس نے لاہور میں متعدد اسٹیج ڈراموں کو پروڈیوس کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ریلویز پولیس لاہور ڈویژن نے انتہائی مطلوب، پیشہ وارانہ اور خطرناک عادی مجرم انتھک محنت اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار کرلیا، ملزم سجاد عرف ننھا نے ریل مسافر نیاز احمد کو گزشتہ ماہ ریلوے اسٹیشن لاہور کے بکنگ آفس کے پاس نشہ آور ٹافی کھلا کر گاڑی میں سوار کیا اور بیہوش کرنے کے بعد اس کا موبائل فون، 38 ہزار روپے، لاکھوں مالیت کی گھڑی اور 2 چیک لوٹ لئے تھے۔
مدعی کے رپورٹ کرنے پر ملزم کے خلاف تھانہ ریلویز پولیس لاہور نے مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا تھا۔ آئی جی ریلویز پولیس رائے طاہر (ہلال شجاعت، ستارہ امتیاز) نے اس سنگین جرم کے مجرم کو فوری گرفتار کرنے کیلئے ڈی آئی جی نارتھ عبدالرب چودھری کو خصوصی ٹاسک سونپا۔
ڈی آئی جی نارتھ کی براہِ راست سربراہی میں خصوصی انویسٹیگیشن ٹیم جس میں ڈی ایس پی (اے) رانا شہزاد اور ایس ایچ او لاہور رمضان حیدر سمیت دیگر افسران نے جدید ٹیکنالوجی جس میں سی ڈی آر اور لائیو لوکیشن شامل ہیں کی مدد سے عادی مجرم کو چند دنوں میں گرفتار کرلیا۔
واضح رہے کہ گھناؤنے جرم میں ملوث ملزم سجاد عرف ننھا کو آئی جی ریلویز پولیس کی طرف سے وزارت داخلہ سے ریلویز پولیس کو سی ڈی آر اور لائیو لوکیشن کی براہِ راست فراہمی کی بدولت گرفتار کیا گیا۔
تفتیشی ٹیم نے ڈی آئی جی نارتھ کی ماہر تجاویز کو بروئے کار لاتے ہوئے سی ڈی آر کی مدد سے معاملے کی دیگر پہلوؤں سے جانچ پڑتال اور دن رات محنت کے بعد انتہائی شاطر ملزم سجاد عرف ننھا کا سوراغ لگا کر گرفتار کیا۔
ملزم اس سے قبل اس قسم کی 15 سے زائد وارداتوں میں ملوث رہ چکا ہے جس کے خلاف پنجاب پولیس کے متعدد تھانہ جات میں بھی مقدمات درج ہیں۔
مزید برآں تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزم اسٹیج ڈراموں کا پروڈیوسر بھی ہے جس نے لاہور میں متعدد اسٹیج ڈراموں کو پروڈیوس کیا ہے۔
ملزم کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی، ٹافیاں اور نشہ آور گولیاں بھی برآمد کرلی گئیں۔ ساتھی ملزم کو گرفتار کرنے کے لئے چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔
ڈی آئی جی نارتھ عبدالرب چودھری نے ملزم کی کامیاب گرفتاری پر تفتیشی ٹیم کو شاباش دی اور کیش ریوارڈ دینے کے احکامات جاری کئے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آئی جی ریلویز پولیس راۓ طاہر کی کاوشوں سے ریلویز پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جارہا ہے جس میں حال ہی میں سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی سرکوبی کے لئے وزارت داخلہ کے تعاون سے ریلویز پولیس کے لئے سی ڈی آر اور لائیو لوکیشن کے براہِ راست حصول کا بندوبست کیا گیا۔
اس اقدام کی بدولت طویل المیعاد اور عدم پتہ مقدمات کو فوری پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا جس کی مثال حال ہی میں حل شدہ کیس سے ملتی ہے جس میں ریلویز پولیس کی تاریخ کے انوکھے مقدمے کو چند دنوں میں حل کرلیا گیا۔
آئی جی ریلویز پولیس کے ویژن کے مطابق ریلویز پولیس میں ٹیکنالوجی سے متعلق اس طرز کی بہت سی اصلاحات جلد ہی متعارف کروائی جائیں گی جس سے ریلویز پولیس کی کارکردگی اور صلاحیتوں میں قدرے اضافہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی جی ریلویز پولیس سے ریلویز پولیس ڈی آئی جی نارتھ اسٹیج ڈراموں گرفتار کر سی ڈی آر
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔