ڈی پورٹ ہونے والے افراد پر مقدمہ، پاسپورٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
اسلام آباد : وفاقی وزارت داخلہ نے ڈی پورٹ ہونے والے افراد پر ایف آئی آر درج اور پاسپورٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا جس میں ڈی پورٹ ہونے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج اور پاسپورٹ منسوخی کا فیصلہ کیا گیا، ڈی پورٹ ہونے والے افراد کو پانچ سال کے لیے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ پر بھی ڈالا جائے گا۔
محسن نقوی کی ہدایت پر پاسپورٹ قوانین کو مزید سخت اور بہتر بنانے کے لیے وفاقی سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی گئی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ڈی پورٹ ہونے والے افراد پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر شرمساری کا باعث بن رہے ہیں، آئندہ ان سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری، سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اور ڈی جی پاسپورٹ نے شرکت کی۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔