خضدار: اسکول بس پر حملے میں زخمی مزید 2 طالبات دم توڑ گئیں، شہدا کی تعداد 8 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع خضدار میں اسکول بس پر بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے حملے میں شہید طلبہ کی تعداد 8 ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں خضدار حملہ: بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائی، 6 طالبعلم شہید
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 8 معصوم جانیں فتنہ الہندوستان کی پاکستان میں دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گئیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اسپتال میں زیر علاج مزید دو طالبات شیما ابراہیم اور مسکان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئیں۔
ذرائع کے مطابق حملے میں شہید ہونے والوں میں 7 طالبات اور ایک طالب علم شامل ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بس پر خود کش حملے کے پہلے روز چھٹی جماعت کی ثانیہ سومرو، ساتویں جماعت کی حفظہ کوثر اور دسویں جماعت کی عیشا سلیم شہید ہوئی تھیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ طالب علم حیدر، طالبہ ملائکہ اور سحر سلیم نے دوران علاج جام شہادت نوش کیا۔
یہ بھی پڑھیں خضدار: اسکول بس پر دہشتگرد حملہ، اقوام متحدہ کی شدید مذمت
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خضدار میں بزدلانہ حملے کی منصوبہ بندی دہشتگرد ریاست بھارت میں کی گئی، ان معصوم بچوں کے خون کا حساب فتنہ الہندوستان اور ان کے ہندوستانی آقاؤں سے لیا جائےگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسکول بس خضدار خودکش حملہ فتنہ الہندوستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکول بس خودکش حملہ فتنہ الہندوستان وی نیوز سیکیورٹی ذرائع ذرائع کے مطابق اسکول بس
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔