بجٹ میں عوام کو ریلیف ملنا چاہئے، بلوچستان دہشتگردی میں بھارت کا ہاتھ: چیئرمین سینٹ
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
لاہور، اسلام آباد (کامرس رپورٹر، خبرنگار) چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا،پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستانی قوم اور سیاسی جماعتوں نے مثالی اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ بجٹ میں عام آ دمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جانا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو یہاں ایکسپو سنٹر میں انٹرنیشنل سولر انرجی میٹ نمائش کے دورہ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے کیا۔ اس موقع پر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں ابوذر شاد بھی موجود تھے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم پوری پاکستانی قوم،اوورسیز پاکستانی صدر زرداری، وزیر اعظم شہبازشریف، سپہ سالار اور تمام سیاسی جماعتوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں جنہوں نے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوکر مثالی اتحاد کا مظاہرہ کر کے بھارت کے خلاف جنگ جیتی ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک اور اس نے خطے میں امن کی فضا کو برقرار رکھنے کیلئے ہمیشہ ہر مسئلے کے حل کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے، کبھی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جو اس خطے کی عوام کی بربادی کا باعث بنے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں چیئرمین سینٹ نے کہا کہ بطور وزیر اعظم میں نے واضح کیا تھا بلوچستان میں دہشت گردی اور صوبے میں بدامنی پھیلانے میں بھارت کا ہاتھ ہے۔ اس حوالے سے بالی ووڈ میں ڈاکٹر من موہن سنگھ پر'' ایکسیڈنٹل پرائم منسٹر'' کے نام سے ایک فلم بھی بنی تھی جس کے بعد بھارت مسئلہ سیاچین،کشمیر اور بلوچستان کے اندرونی معاملات پر گفت و شنید کرنے کیلئے تیار ہو گیا تھا۔ پی ٹی آئی معاملات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، عدالتیں جو بھی ان کے بارے میں فیصلہ کریں گی وہ سب کو قبول ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک توانائی کے شعبے کی بات ہے ہمیں سستی توانائی کی فراہمی پر توجہ دینی ہوگی۔ آئندہ بجٹ میں سبسڈی کم کرنے کی بات ہو رہی ہے تو اس کا متبادل ہونا چاہیے، جیسا سستے سولر پینلز کی فراہمی تاکہ عوام پر بجلی کے بلوں کا بوجھ کم ہو۔ اسی طرح دیگر شعبوں میں بھی اخراجات کم کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جانا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا جہاں تک پیپلز پارٹی کی بات ہے ہم قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہیں۔ چیئرمین سینٹ سید یوسف رضا گیلانی نے یومِ افریقہ کے موقع پر افریقی براعظم کی تمام اقوام، قیادت، پارلیمانوں اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ چیئرمین سینٹ نے کہا کہ پاکستان افریقی ممالک کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ہماری تاریخ باہمی اعتماد، احترام اور تعاون سے عبارت ہے اور وقت کا تقاضہ ہے کہ ان تعلقات کو مزید گہرا اور مستحکم کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سید یوسف رضا گیلانی نے چیئرمین سینٹ نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔