شمو قتل: ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پراکٹر کے استعفوں کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
بی این پی کے اسٹوڈیںٹس ونگ ’جیت آبادی چھاترا دل‘ کے ڈھاکہ یونیورسٹی چیپٹر نے وائس چانسلر اور پراکٹر کے استعفیٰ اور شہریار عالم شمو کے قتل کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنے کا آغاز کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے اپنے ہی 66 شہری بنگلہ دیش میں دھکیل دیے
چھاترا دل کے کارکنوں نے پیر کو تقریباً 12 بجے کیمپس میں حکیم چتر سے جلوس نکالنے کے بعد وائس چانسلر کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا۔
ڈھاکہ یونیورسٹی چھاترا دل کے صدر گنیش چندرا نے کہا کہ 13 دن ہوچکے ہیں اور ابھی تک شمو کے قتل کا کوئی حل نہیں نکلا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہریار عالم شمو عوامی انقلاب کے دوران صف اول میں شامل تھے اور انقلاب کے بعد بننے والی یہ انتظامیہ ناکام ہو چکی ہے۔
اس انتظامیہ سے مستعفی ہونے کے ساتھ ساتھ ہم ان لوگوں کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ڈی یو کی چھاترا دل یونٹ کے جنرل سیکریٹری ناہید الزمان شپون نے کہا کہ شمو کے قتل کیس میں انصاف کی عدم فراہمی نہ صرف ایک طالب علم رہنما کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ اس نے تمام طلبا کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اغوا اور قتل کی وارداتیں باقاعدگی سے ہو رہی ہیں لیکن اس کے باوجود انتظامیہ خاموش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک محفوظ کیمپس چاہتے ہیں اور ہم وائس چانسلر اور پراکٹر کا فوری استعفیٰ چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیے: تعلقات نچلی سطح پر، بنگلہ دیش اور بھارت کے تجارت اور کھیل سے متعلق سخت فیصلے
شمو کو 13 مئی کی رات 11 بجے سہروردی باغ میں چاقو سے وار کیا گیا تھا۔ انہیں آدھی رات کے قریب ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے انہیں مردہ قرار دیا۔
شمو ڈھاکہ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ میں 2018-19 کے تعلیمی سال میں طالب علم تھے۔ وہ بی این پی کے طلبہ محاذ کے سر اے ایف رحمن ہال یونٹ کے ادب اور اشاعت کے سیکریٹری بھی تھے۔ ان کا تعلق سراج گنج کے علاقے بیلکوچی سے تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش جیت آبادی چھاترا دل ڈھاکہ یونیورسٹی شمو قتل شہریار عالم شمو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش ڈھاکہ یونیورسٹی شمو قتل شہریار عالم شمو وائس چانسلر نے کہا کہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔