نیلم منیر سے متعلق 9 سال قبل کی گئی پیشگوئی حرف بہ حرف پوری؛ اداکارہ بھی حیران
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
خوبصورت اداکارہ نیلم منیر کی حال ہی میں شادی دبئی کے ایک نوجوان کے ساتھ ہوگئی اور حیران کن اس ے متعلق 9 سال قبل ایک پیشن گوئی بھی کی گئی تھی۔
یہ قصہ سال دو سال کا نہیں بلکہ پورے نو برس پرانی بات ہے جب نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں موجود نجومی نے نیلم منیر کی شادی کے بارے میں پیشن گوئی کی تھی۔
قسمت کا حال اور ستاروں کی چال بتانے والے اس نجومی نے کہا تھا کہ اداکارہ نیلم منیر کی شادی کسی عرب ملک میں ہوگی۔
نجومی نے مزید بتایا تھا کہ نیلم منیر کا شریکِ حیات یا تو عرب ہوگا* یا پھر وہاں مشرق مقیم کوئی پاکستانی نوجوان ہوگا۔
اس بات پر نیلم منیر کو بھی بالکل یقین نہیں تھا اور پھر اُس نجومی کی یہ پیشن گوئی ہر ایک کے دماغ سے محو ہوکر رہ گئی تھی۔
پھر رواں برس نیلم منیر کی شادی ہوئی اور حیران کن طور پر ان کے دلہا کا تعلق پاکستان سے ہے لیکن وہ دبئی میں مقیم ہیں اور کافی عرصے سے وہیں ملازمت کر رہے ہیں۔
اب جب کہ 9 سال بعد نیلم منیر کی شادی سے متعلق پیشگوئی حرف بہ حرف درست ثابت ہوگئی تو اُس نجومی کا وہ دعویٰ بھی پھر سے تازہ ہوگیا جو اب حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔
اداکارہ نیلم منیر کو جب اُس پیشنگوئی کی یاد دلائی گئی تو انھوں نے اسے مسکراتے ہوئے محض ایک اتفاق قرار دیا۔
سوشل میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر یہ اتفاق ہے تب بھیم کافی دلچسپ اور ناقابل یقین ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیلم منیر کی شادی
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں