فیلڈ مارشل سے فتنۃ الہندوستان تک
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں جنرل عاصم منیر دوسرے آرمی چیف ہیں جنھیں فیلڈ مارشل کا اعلیٰ ترین فوجی منصب عطا کیا گیا ہے۔ آرمی چیف کو یہ اعزاز حالیہ پاک بھارت جنگ جو 7 تا10 مئی کے دوران لڑی، شان دار فوجی خدمات انجام دینے پر دیا گیا ہے جسے وطن کے تمام طبقہ ہائے فکر کی جانب سے سراہا جا رہا ہے کہ جنرل عاصم منیر بجا طور پر اس اعلیٰ ترین فوجی مسند پر متمکن ہونے کے کلی طور پر مستحق تھے۔
فیلڈ مارشل پاک فوج کا سب سے اعلیٰ فوجی عہدہ ہے جو حکومت پاکستان کی جانب سے کسی فوجی افسر کو جنگی مہمات میں اس کی غیر معمولی صلاحیتوں اور خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ یہ ایک اعزازی عہدہ ہے جس کے ساتھ کوئی انتظامی اختیارات یا مراعات وابستہ نہیں ہوتیں۔
پاک بحریہ میں فیلڈ مارشل کے مساوی عہدہ ایڈمرل آف دی فلیٹ کہلاتا ہے۔ جب کہ پاک فضائیہ میں مارشل آف دی ایئر فورس قرار دیا جاتا ہے۔ اگرچہ فیلڈ مارشل کا درجہ جنرل سے برتر تصورکیا جاتا ہے لیکن اسے ’’ فائیو اسٹار جنرل‘‘ کی حیثیت سے جانا جاتا ہے تاکہ فیلڈ مارشل کے عہدے کو دیگر عسکری نشانات امتیاز سے الگ شناخت دی جا سکے۔
آرمی چیف بالعموم افواج پاکستان کا سربراہ ہوتا ہے ملک کی بحری اور فضائی کمانڈ آرمی چیف کی نگرانی میں کام کرتی ہے۔ اس کا مثالی مظاہرہ پوری قوم نے 7/10 مئی کو بھارت کے خلاف جنگ کے دوران دیکھا۔ دنیا بھر میں اس کی گونج سنائی دی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی قائدانہ فوجی صلاحیتوں کا غیر معمولی اور ناقابل یقین مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سے چار گنا بڑے دشمن بھارت کو ایسا کاری اور منہ توڑ جواب دیا کہ جنگی جنون میں مبتلا نریندر مودی بھونچکا کے رہ گیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاک فضائیہ کے امکانی خطرناک عزائم کو بھانپتے ہوئے مودی نے فوری جنگ بندی کے لیے امریکا سے التجائیں شروع کردیں اور پاکستان جو اول دن سے امن کا داعی اور خواہاں رہا حالات کی نزاکت اور خطے کے امن کی خاطر جنگ بندی پر آمادہ ہوا لیکن مودی اور بھارتی فوج کو فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے جو سبق سکھایا وہ اسے نسلوں تک یاد رہے گا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی مربوط و کامیاب جنگی حکمت عملی، مستقل مزاجی، عزم و یقین اور قائدانہ صلاحیتوں سے پوری دنیا کو حیران کردیا۔ عالمی ذرایع ابلاغ میں ان کی غیر معمولی دلیری، جرأت، بہادری اور مشکل ترین جنگی حالات میں بلند حوصلوں کے ساتھ ثابت قدمی کی کھل کر تعریف و توصیف کی جا رہی ہے۔
صدر پاکستان آصف زرداری اور وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے ایک اعزازی تقریب میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکو بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے اور وطن کا کامیابی سے دفاع کرنے پر ’’ بیٹن آف فیلڈ مارشل‘‘ عطا کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ معرکہ حق کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فرنٹ سے لیڈ کیا۔ ان کے لیے یہ اعزاز قابل فخر لمحہ ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بجا طور پر کہا کہ قوم کے بہادر سپوت نے نئی تاریخ رقم کی ہے۔
پاکستان نے روایتی جنگ میں اپنی برتری ثابت کر دی ہے۔ کورکمانڈرکانفرنس میں بھی فیلڈ مارشل کا اعزاز ملنے پر جنرل عاصم منیر کی خدمات کو سراہا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے اور کے پی کے اور بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ خوارج کو ختم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔ مودی کے جنگی جنون میں پھر ابال آ رہا ہے اور اس کے دھمکی آمیز بیانات ماحول کو کشیدہ کر رہے ہیں۔
اس پہ مستزاد بلوچستان میں بھارت نے اپنی پراکسی وار کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ضلع خضدار میں آرمی پبلک اسکول کی بس پر دہشت گردوں کے حملے میں 4 معصوم طلبا سمیت 6 افراد شہید اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔
کور کمانڈر کانفرنس کے شرکا نے بجا طور پر کہا ہے کہ پہلگام واقعے کی آڑ میں کی جانے والی جارحیت میں ناکامی پر بھارت پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے خفیہ منصوبے پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کی اس پراکسی وار کو ’’فتنۃ الہندوستان‘‘ کا نام دے دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ خضدار حملہ ’’را‘‘ کی سرپرستی میں ہوا۔ قوم کو قوی امید ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو استعمال کرکے جس طرح بھارت کو شکست فاش دی بعینہ ’’فتنہ الہندوستان‘‘ کا بھی قلع قمع کردیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل عاصم منیر نے آرمی چیف نے اپنی جاتا ہے
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب