حکومت کو ترقیاتی بجٹ کی منظوری میں مشکلات کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
(آئی ایم ایف کے بجٹ اہداف پر اعتراضات)( اہم وزارتوں میں اختلافات )
ترقیاتی منصوبوں کا تھرو فارورڈ 10 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا،شہباز شریف نے وزارتِ منصوبہ بندی سے 500 جاری ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات طلب کر لیں، ذرائع
ترقیاتی منصوبوں کی اکثریت مہنگے انفرااسٹرکچر منصوبے ہیں، قرض ادائیگی، دفاعی بجٹ، ٹیکس وصولیاں، ترقیاتی بجٹ کاہدف طے کیا جائیگا، ورچوئل مذاکرات آج ہوں گے،رپورٹ
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے آئندہ مالی سال کے مجوزہ بجٹ اہداف پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں کے مالی بوجھ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا تھرو فارورڈ 10 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ذرائع نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وزارتِ منصوبہ بندی سے 500 جاری ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔رپورٹ کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی اکثریت مہنگے انفرااسٹرکچر منصوبے ہیں، حکومت کو ترقیاتی بجٹ کی منظوری میں مشکلات کا سامنا ہے۔وزارت خزانہ و منصوبہ بندی میں اختلاف بھی سامنے آگئے، ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بجٹ اہداف پر اتفاق نہ ہونے سے آئندہ مالی سال کی منصوبہ بندی تاخیر کا شکار ہے۔رپورٹ کے مطابق سالانہ منصوبہ بندی رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس ملتوی کردیا گیا، نئی تاریخ بعد میں دی جائے گی۔اجلاس میں آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ اور معاشی پلان پر سفارشات تیار ہونا تھیں، اجلاس میں رواں مالی سال کی معاشی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جانا تھا۔ذرائع نے کہا کہ اجلاس میں تاخیر سے بجٹ سازی کے عمل پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔آئی ایم ایف نے بجٹ مشاورت کے لیے ورچوئل مذاکرات سے قبل پاکستان سے گیس کمپنیوں کا ڈیٹا طلب کرلیا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ مشاورت کے لیے ورچوئل مذاکرات آج ہوں گے جب کہ عالمی مالیاتی فنڈ نے مذاکرات سے قبل پاکستان سے گیس کمپنیوں کا ڈیٹا طلب کرلیا۔ ذرائع نے کہا کہ ورچوئل مذاکرات میں گیس سیکٹر کے گردشی قرضے پر بات چیت کا امکان ہے، پیٹرولیم ڈویڑن کی جانب سے گیس کا گردشی قرضہ ختم کرنے کے لیے پلان فراہم کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق گیس کے شعبہ میں گردشی قرضہ 2800 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، اسے کم کرنے کے لیے ڈیوڈنڈ استعمال کرنے کی تجویز زیر غور ہے، آئی ایم ایف وفد نے گیس کے شعبے کی کمپنیوں کا ڈیٹا طلب کیا ہے۔ذرائع نے کہا کہ ا?ئی ایم ایف کو گیس کمپنیوں کی 5 سالہ کارکردگی پیش کی جائے گی، گیس کمپنیوں کے 5 سالہ منافع اور نقصان سمیت بیلنس شیٹ پر بات چیت ہو گی، حکومت گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ آئندہ 5 برسوں میں ختم کرنے کا پلان دے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ترقیاتی منصوبوں کی ورچوئل مذاکرات ذرائع نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق ترقیاتی بجٹ گیس کمپنیوں ا ئی ایم ایف مالی سال کے لیے
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔