WE News:
2026-06-03@00:37:54 GMT

لیورپول میں کار حملہ، 27 فٹبال شائقین زخمی

اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT

لیورپول میں کار حملہ، 27 فٹبال شائقین زخمی

انگلینڈ میں پریمیئر لیگ فٹبال ٹائٹل کا جشن منانے والی پریڈ کے دوران ایک ڈرائیور نے اپنی کار لیورپول کے شائقین کے ہجوم سے ٹکرادی، جس کے نتیجے میں 27 افراد کو زخمی ہوگئے.

زخمیوں میں سے 2 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ یہ واقعہ دہشت گردی سے متعلق تھا۔

پولیس نے لیورپول کے علاقے سے ایک 53 سالہ سفید فام برطانوی شخص کو گرفتار کیا ہے، جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ اس گاڑی کا ڈرائیور تھا جس نے شمال مغربی انگلینڈ کے شہر میں جشن منانے والے حامیوں کے ایک بڑے گروپ کو نشانہ بنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:

جائے وقوعہ پر 20 افراد کو طبی امداد دی گئی، ریسکیو حکام نے بتایا کہ 27 افراد کو اسپتال لے جایا گیا، جن میں 4 بچے بھی شامل تھے، ایک بچے اور ایک بالغ شہری کی حالت تشویشناک ہے، گاڑی کے نیچے پھنسے 4 افراد کو فائر فائٹرز نے ریسکیو کیا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں لوگوں کو کار سے ٹکر کر ہوا میں اڑتے ہوئے دیکھا گیا، کار رکنے پر مشتعل شائقین اردگرد جمع ہو گئے اور شیشے توڑنا شروع کر دیے، اس لمحے پولیس اہلکاروں نے مداخلت کرتے ہوئے انہیں ڈرائیور تک پہنچنے سے روک دیا۔

عارضی ڈپٹی چیف کانسٹیبل جینی سمز نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک الگ تھلگ واقعہ ہے، اور ہم فی الحال اس کے سلسلے میں کسی اور کو تلاش نہیں کر رہے ہیں، اس واقعے کو دہشت گردی کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:

اسپرنگ بینک ہالیڈے کے لیے زیادہ تر لوگوں کے کام سے چھٹی کے بعد، لاکھوں شائقین لیورپول ٹیم اور اس کے عملے کو پریمیئر لیگ ٹرافی کے ساتھ ایک اوپن ٹاپ بس میں سٹی سینٹر سے سفر کرتے ہوئے دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک عینی شاہد نے بتایا کہ تصادم لیورپول ٹیم کو لے جانے والی بس کے گزرنے کے تقریباً 10 منٹ بعد ہوا، لیورپول سٹی کونسل کے رہنما لیام رابنسن نے سوشل میڈیا پر کہا کہ اس واقعے نے ایک خوشگوار دن کو گدلا کردیا۔

پولیس نے غیر معمولی طور پر اس واقعہ کے ذمہ دار شخص کی تفصیل بتانے میں جلدی کی جسے وقوعے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کی جانب سے اس نوعیت کی شیئرنگ سوشل میڈیا کی قیاس آرائیوں کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش سمجھا جارہا ہے، جس میں اس پرتشدد واقعہ کو ایک اسلام پسند حملے سے تعبیر کیا جارہا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انگلینڈ پریمیئر لیگ ٹرافی پریمیئر لیگ فٹبال ٹائٹل سٹی سینٹر سوشل میڈیا لیور پول وائرل ویڈیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انگلینڈ پریمیئر لیگ ٹرافی سٹی سینٹر سوشل میڈیا لیور پول وائرل ویڈیوز پریمیئر لیگ سوشل میڈیا افراد کو

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی