بھارتی تجزیہ کار اور صحافی بھی مودی سرکار کی انتہا پسند اور ناکام پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرنے لگے۔

رپورٹ کے مطابق حال ہی میں کرن تھاپر نے تجزیہ کار اجے ثانی کا بھارتی چینل دی وائر پر ایک انٹرویو جاری کیا، انٹرویو میں بھارتی حکومت کی نااہلی اور بھارتی میڈیا کے جھوٹ سے پردہ فاش کیا گیا۔

کرن تھاپر نے سوال کیا کہ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی ایئر فورس 20 فیصد تباہ ہو چکی ہے، اجے ثانی نے جواب دیا کہ بھارتی میڈیا صرف مبالغہ آرائی کر رہی ہے تا کہ جھوٹ کی تشہیر کی جا سکے، بھارتی حکومت کی فوجی حکمت عملی شدید ناکامی کا شکار ہو چکی ہے۔

اجے ثانی نے مزید کہا کہ آپریشن سندور محض سیاسی شو تھا جس سے بھارتی ناکامیوں کا کھل کر انکشاف ہوا، پاکستانی دفاعی صلاحیت کو کم سمجھنا بھارت کے لیے مہنگا ثابت ہوا، بھارتی میڈیا پر عوام کو گمراہ کرنے والی رپورٹس چلائی گئیں، جنگی حکمت عملی کی سمجھ بوجھ کی کمی بھارتی حکومت کا سنگین مسئلہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی ناکافی حملہ آور حکمت عملی سے بھارتی عوام مکمل مایوس ہے، حکومت کی ناقص فوجی منصوبہ بندی بھارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

بھارت کے معروف سیاسی تجزیہ کار اور صحافی کرن تھاپر نے مودی کی پالیسیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ مودی سرکار عالمی سطح پر اپنی جمہوری ساکھ کھو چکی ہے، مودی کی نااہلی اور جھوٹ کا سچ پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا تجزیہ کار

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی