پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر رانا عظیم اور سیکرٹری شکیل احمد کی صحافیوں کی برطرفیوں کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
لاہور/ اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 26 مئی ۔2025 ) پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے صدر رانا محمد عظیم اور سیکرٹری جنرل شکیل احمد نے روزنامہ جنگ اور دی نیوز راولپنڈی سے اسی کے قریب ملازمین کو فوری طور پر برطرف کرنے کی شدید مذمت کی ہے. ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ جنگ گروپ نے آج بیک جنبش قلم 80 ملازمین کو جبری طور پر برطرف کر دیا ہے جو انتہائی تشویشناک ہے ان ملازمین کی اکثریت آئی ٹی این ای اور این آئی آر سی سے اپنے مقدمات جیت کر آئی تھی پی ایف یو جے کے مرکزی راہنماﺅں کا کہنا ہے کہ جنگ گروپ انتظامیہ کی جانب سے کسی نوٹس کے بغیر اتنی بڑی تعداد میں ملازمین کی غیر قانونی فراغت انتہائی تشویشناک ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے.
(جاری ہے)
پی ایف یو جے لیڈرشپ نے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طرف ان ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے تاکہ صحافی ورکرز میں پائی جانے والی بے چینی ختم ہو سکے بصورت دیگر روز جنگ گروپ انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیئے جائیں گے. دوسری جانب راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے روزنامہ جنگ اور دی نیوز سے80 سے زیادہ صحافیوں اور میڈیا ورکرزکو عدالتی فیصلوں کی توہین کرتے ہوئے نوکریوں سے جبری برخاست کرنے کیخلاف آج سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کا اعلان آج شام جنگ، جیواور،دی نیوز بلیوایریا اسلام آباد کے باہر احتجاجی دھرنے میں کیا گیا. قبل ازیں راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر طارق عثمانی کی صدارت میں منعقدہ توسیعی اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ جب تک جنگ اور دی نیوز کے برطرف ملازمین کو بحال نہیں کیا جاتا اس وقت تک ورکرز کے معاشی قاتل جنگ گروپ کے خلاف بھرپور احتجاج جاری رکھا جائے گا پریس ریلیزمیں کہا گیا ہے کہ جنگ گروپ انتظامیہ کی صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کیخلاف سفاکیت، بے حسی ورکرز کش پالیسیوں کیخلاف ہر سطح پر احتجاج کیا جائے گا. راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے اجلاس میں صدرمملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ، وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف، وزیر اعلی کے پی علی امین گنڈا پور، وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ، وزیر اعلی بلوچستان سرفرار بگٹی، گلگت بلستستان،آزاد کشمیر کی حکومتوں سے جنگ جیو کے گروپ مالکان کی سفاکیت کیخلاف فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے جنگ، دی نیوز ورکرز کی نوکریوں کی بحالی تک میڈیا گروپ کو روزانہ کی بنیاد پر ملنے والے کروڑوں روپے اشتہارات کوبند کیا جائے. پریس ریلزمیں کہا گیا ہے کہ جنگ گروپ درجنوں ڈمی اخبارات کے لیے روزانہ کروڑوں روپے کے سرکاری اشتہارات لے رہا ہے اور دوسری طرف معمولی سی تنخواہ لینے والے 100 سے زائد صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو جبری نوکریوں سے برطرف کرکے ان کامعاشی قتل عام کررہا ہے اور وفاقی حکومت سمیت تمام صوبائی حکومتیں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے معاشی قتل پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں. اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تنظیمی سطح پرمیڈیا گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کے اس عمل کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ، حکومتی زعماء، پارلیمنٹرین، سول سوسائٹی، وکلا تنظیموں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابطہ کرکی انہیں جنگ گروپ کے ورکرز کش اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا اور میڈیا گروپ کی جانب سے ڈمی اخبارات کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کے سرکاری اشتہارات سمیت دیگر مراعات حاصل کرنے کے بارے میں جلد وائٹ پیپر شائع کیا جائے گا اجلاس میں جنگ اور دی نیوز جنگ دی کے متاثرین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی، آر آئی یو جے کے اجلاس میں وکلا, سول سوسائٹیز اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے آرآئی یو جے کے احتجاج میں شرکت کی اپیل کی ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے صحافیوں اور میڈیا یونین آف جرنلسٹس جنگ اور دی نیوز کہ جنگ گروپ اسلام آباد ملازمین کو اجلاس میں وزیر اعلی کیا جائے جائے گا
پڑھیں:
ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔
اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔
لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔
گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔
مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیانتازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔
پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیںگزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقاتپاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
یورپی یونین کی غیر معمولی تائیدیکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔
اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔
اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔
’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکزموجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔
امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین