Daily Ausaf:
2026-07-24@05:35:54 GMT

نقشِ وفا،داستانِ جبر

اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT

(گزشتہ سے پیوستہ)
امریکاچاہتاہے کہ بھارت چین کے خلاف اپنی محاذآرائی برقراررکھے،اس لیے ممکن ہے کہ وہ بھارت کوفوجی اورمعاشی مدددے کر اسے’ ’بحال‘‘ کرنے کی کوشش کررہاہو۔ تاہم اس وقت یہ تاثردیاجا رہا ہے کہ امریکاکی جنگ بندی کی سفارش کا مقصدصرف’’وقت خریدنے‘‘سے زیادہ خطے کوایٹمی تصادم سے بچاناتھا۔
امریکی مداخلت کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ امریکی پالیسی کابنیادی مقصدجنوبی ایشیامیں اپنے استحکام اورچین کے بڑھتے اثرات کومحدود کرنا ہے۔بھارت اورپاکستان کے درمیان کشیدگی،خاص طورپرایٹمی جنگ کے خطرات،امریکاکے لئے بڑاخطرہ ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیارہیں اورایٹمی تصادم کی صورت میں خطے کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت اورسلامتی کوشدید خطرات لاحق ہوں گے۔
پاکستان چین کااہم اتحادی ہے اور امریکا چاہتاہے کہ بھارت کو’’کواڈ‘‘کے ذریعے چین کے خلاف ایک توازن کے طورپراستعمال کیا جائے۔اگر بھارت فوجی یاسیاسی طورپرکمزور پڑا،تویہ امریکی مفادات کے لئے نقصان دہ ہوسکتاہے۔جنگ کی صورت میں خطے میں امریکی اتحادیوں جیسے سعودی عرب،یو اے ای کے مفادات متاثرہو سکتے تھے۔
عالمی تجزیہ نگاروں اورعالمی دفاعی تجزیہ نگاروں کے نقطہ نظرکے مطابق بھارت کی فوجی اور سفارتی(جیسے لداخ میں چین سے ہار،کشمیرپالیسی پرتنقید)نے اسے امریکاکے اعتمادمیں کمی کاباعث توضروربنی ہیں۔ کواڈمیں بھارت کاکرداراہم ہے،لیکن اگروہ چین کے خلاف مؤثرثابت نہیں ہوتا،توامریکااپنی حکمت عملی تبدیل کرسکتاہے۔سی پیک کی کامیابی اور چین-پاکستان اتحادنے خطے کے طاقت کے توازن کوتبدیل کردیا ہے،جس کے تحت بھارت کودفاعی طورپرزیادہ محتاط رہناپڑرہاہے۔
اب میڈیا میں امریکی مداخلت سے سیزفائرکے لئے کئی جوازپیش کئے جارہے ہیں کہ اگربھارت جنگ میں بالادست ہوتا،اورپاکستان کی شکست سے چین براہ راست مداخلت کرسکتا تھا،جوامریکاکے لئے خطرناک ہوتا۔کسی بھی فریق کی فیصلہ کن فتح ایٹمی ہتھیاروںکے تصادم کی وجہ بن جاتی۔ایک اور امریکی وجہ یہ بھی بتائی جارہی ے کہ بھارت کی بالادستی سے خطے میں چین کااثرکم ہوجاتالیکن پاکستان کے عدم استحکام سے دہشتگردی جیسے مسائل بڑھ سکتے تھے جس سے اس خطے میں امریکا کے لئے لامتناہی مشکلات کادروازہ کھل جاتا جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی یوکرین میں بری طرح الجھے ہوئے ہیں اورٹرمپ کی کوشش ہے کہ کسی طرح یوکرین کی جنگ اپنے انجام کوپہنچے تاکہ روس سے دوستی کاہاتھ بڑھاکرخطے سے چین کے اثرکوروکنے کی کوشش کی جائے جو کہ ممکن نہیں۔امریکاکی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اپنے مفادات کی بنیادپرہی مداخلت کرتاہے۔
ٹرمپ نے اپنے حالیہ دورہ سعودی عرب، قطراوریواے ای کے دوران بارہاپاک بھارت کے درمیان سیزفائرکاکریڈٹ لیتے ہوئے اعلان کیاہے کہ جلد ہی دونوں ممالک کسی غیر جانبدارجگہ پراپنے جاری مسائل بشمول مسئلہ کشمیرپرمذاکرات کریں گے۔اب ضروری ہوگیا کہ پاکستان اپنی مکمل سفارتی تیاری کے ساتھ اپنے مضبوط اورتاریخی دلائل کے ساتھ اپنامقدمہ لڑے اورمذاکرات سے پہلے پوری قوم کواعتمادمیں بھی لیاجائے۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے علاوہ قوم کے ساتھ خطاب میں واضح کیاجائے کہ ان مذاکرات پرکس ایجنڈے پربات ہوگی تاکہ قوم کااعتمادآپ کی پشت پرہو۔
یادرکھیں کہ مذاکرات سے قبل پاکستان کوکئی چیلنجزکاسامناکرنے کابھی اندیشہ ہے جس میں سب سے پہلے بھارت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر کو اپنا ’’اندرونی معاملہ ‘‘ بتاتے ہوئے اس مسئلے پربات چیت سے انکارکرسکتاہے۔اس صورت میں پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ مذاکرات سے پہلے چین،ترکی،اوراسلامی ممالک (سعودی عرب،یواے ای،قطر)کی حمایت سے بھارت پربین الاقوامی دباؤبڑھائے۔
پاکستان کوامریکاکے دوغلے رویے سے بھی خبرداررہنے کی ضرورت ہے کیونکہ امریکابیک وقت بھارت کوفوجی اتحاد(کواڈ)اور پاکستان کودہشتگردی کے خلاف اتحادی سمجھتاہے ۔ پاکستان کوچاہیے کہ وہ چین اورروس کے ساتھ تعلقات کومضبوط کرے تاکہ امریکا کے یکطرفہ اثرات کومتوازن کیاجاسکے۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کوکشمیری عوام کی آوازکوعالمی سطح پراٹھانے کے لئے سوشل میڈیااوربین الاقوامی میڈیاکواستعمال کرناچاہیے۔
یقینا وزارتِ خارجہ آئندہ ہونے والے مذاکرات کے لئے اپنے ایجنڈے کی نوک پلک سنوار رہے ہوں گے تاہم آئندہ مذاکرات کے لئے پانچ ترجیحی نکات کو شامل کرناازحدضروری ہے ۔پاکستان کے مذاکراتی ایجنڈامیں کلیدی نکات اوردلائل میں تنازعہ کشمیربنیادی نقطہ ہوناچاہئے۔پاکستان کامضبوط قانونی مؤقف اقوام متحدہ کی قراردادیں ہیں جن پرعملدرآمد کو ضروری بنایا جائے۔ڈائیلاگ ایجنڈا کی وضاحت کے لئے ضروری ہے کہ مذاکرات کاآغاز صرف اسی صورت میں ہوجب بھارت کشمیر کی متنازع حیثیت تسلیم کرے،معاشی یا تجارتی موضوعات کوبعدمیں شامل کیاجائے۔اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے کالائحہ عمل طے کیاجائے اورایل اوسی پرجنگ بندی کی مستقل نگرانی کامطالبہ کیاجائے اور خلاف ورزی کرنے والے کے احتساب کے لئے اصول وضع کئے جائیں۔
(جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاکستان کے بھارت کو کے خلاف کے ساتھ چین کے کے لئے

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا