data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تہران سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات پر مشروط آمادگی ظاہر کی ہے۔

فرانسیسی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران امریکا سے بات چیت کے لیے تیار ہے، مگر یہ مذاکرات باہمی احترام کی بنیاد پر ہونے چاہییں اور امریکا کو اس بات کی ضمانت دینا ہوگی کہ وہ بات چیت کے دوران ایران پر کوئی حملہ نہیں کرے گا۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکا کی وہ کارروائیاں ہیں جن کے ذریعے اس نے سابقہ معاہدے کو توڑ دیا اور یکطرفہ حملے کیے۔ ان کے مطابق ان حملوں میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا، اور ایران کو اس نقصان کے تخمینے کے بعد معاوضہ طلب کرنے کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام ایک قومی اثاثہ ہے جسے کسی بیرونی دباؤ سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ عراقچی کے مطابق ایران پرامن جوہری منصوبے سے پیچھے نہیں ہٹے گا، اور جو ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ ایران کو ایسا کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، وہ دراصل ایک سنگین غلط فہمی کا شکار ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ کچھ دوست ممالک اور ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اور ایک سفارتی ہاٹ لائن قائم کی جا رہی ہے تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے اور بات چیت کی راہیں کھل سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا