ایران نے امریکی صدرکی مذاکرات کی پیشکش کو متضاد قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251015-08-22
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن کی اپیل ان کے ایران کے خلاف اقدامات سے متصادم ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ نے منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر تنقید کرتے ہوئے واشنگٹن پر دشمنانہ اور مجرمانہ رویّے کا الزام عاید کیا۔ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے یہ بیان ٹرمپ کے اسرائیلی پارلیمان میں کیے گئے اس خطاب کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے تہران کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ کی امن کی اپیل اْن کے ایران کے خلاف اقدامات سے متصادم ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک علیحدہ تبصرے میں کہا کہ ٹرمپ یا تو امن ( کا پرچار کرنے والے) کے سفیر بن سکتے ہیں یا پھر جنگ ( کو بڑھاوا دینے والے)، مگر وہ بیک وقت دونوں کے سفیر نہیں ہو سکتے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق امریکا ایک جانب مذاکرات کی بات کرتا ہے اور دوسری جانب ایرانی عوام پر پابندیاں اور حملے کرتا ہے، جو کہ کھلی منافقت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔