ایران ایئر کا پاکستان کیلیے فلائٹ آپریشن شروع کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
اسلام آباد:۔ ایران ایئر نے پاکستان کے لیے فلائٹ آپریشن شروع کرنے کااعلان کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ابتدائی طورپرہفتہ وارایک پرواز مشہد اور لاہور کے درمیان آپریٹ ہوگی۔
پروازوں سے مشہد سے لاہور کے درمیان فضائی رابطہ بحال ہوجائے گا۔ 29اکتوبر سے ہفتہ وار پرواز کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔
دوسری جانب پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے سیرین ایئر کو 2 ہفتے کے لیے مشروط فلائٹ آپریشن کی اجازت دے دی گئی، ایئرلائن جدہ سے مسافروں کو واپس لائے گی۔
ترجمان سی اے اے نے بتایا کہ سیرین ایئر اجازت صرف جدہ میں پھنسے مسافروں کو وطن واپس لانے کیلئے دی گئی ہے، سیرین ایئر جدہ میں پھنسے طیارے کو بھی وطن لاسکے گی، سیرین ایئر کو ملک سے بیرون ملک فلائٹ آپریشن کی اجازت نہیں ہوگی۔سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ریگولیٹری قوانین کی خلاف ورزی پر سیرین ایئر کا ایئر آپریٹرز سرٹیفکیٹ معطل کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: فلائٹ آپریشن سیرین ایئر
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔