WE News:
2026-07-24@02:54:29 GMT

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر: تاریخ کا عظیم موڑ

اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر: تاریخ کا عظیم موڑ

پاکستان آرمی کے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کا تاریخی اعلان گزشتہ ہفتے کابینہ نے کیا۔

یہ فیصلہ اُن کی غیر معمولی قیادت، تزویراتی صلاحیتوں اور حالیہ قومی دفاعی بحرانوں میں کلیدی کردار کے اعتراف کے طور پر سامنے آیا ہے۔

اس سے قبل 1959 میں اس وقت کے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنگ محمد ایوب خان نے ازخود اپنے اپنے آپ کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی۔

فیلڈ مارشل کا اعزاز — عالمی پس منظر

فیلڈ مارشل کا رینک دنیا بھر میں سب سے اعلیٰ فوجی اعزاز سمجھا جاتا ہے، جو 5 ستاروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کی ابتدا 1185ء میں ہوئی جب فرانسیسی بادشاہ فلپ آگسٹس نے جنرل البیرک کلیمنٹ کو اس عہدے پر فائز کیا۔

برطانیہ، جرمنی، بھارت اور دیگر ممالک میں اب تک سینکڑوں جرنیل اس درجہ پر فائز ہو چکے ہیں۔

قابل ذکر عالمی فیلڈ مارشلز میں شامل ہیں برنارڈ مونٹگمری (برطانیہ): دوسری جنگ عظیم میں شمالی افریقہ اور نارمنڈی کی مہمات کے ہیرو ایرون رومیل (جرمنی): ’ڈیزرٹ فاکس‘ کے لقب سے مشہور، شمالی افریقی محاذ کے عظیم جرنیل۔

 اسی طرح سام مانیکشا (بھارت): 1971 کی ہند-پاک جنگ، جنہیں 1973 میں فیلڈ مارشل کا درجہ دیا گیا۔

پاکستان کا فوجی رینک — تاریخی جھلک

پاکستان کی تاریخ میں اب تک صرف 2 افراد کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے:

فیلڈ مارشل ایوب خان:

1959 میں ملکی فوجی اور قیادت کے اعتراف میں ترقی دلوائی  گئی۔ ناقدین ابھی تک مخمصے میں ہیں کہ جنگ تو 1965 میں ہوئی، مگر 6 سال قبل یہ اعزاز کیسے اور کیوں ملا ؟

جنرل محمد ایوب خان کو 1959 میں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی، 1965 کی پاکستان اور بھارت کی جنگ سے کئی سال پہلے۔  یہ کیسے اور کیوں ہوا یہ ہے:

مارشل لا (1958-59) کے بعد خود کو فروغ دینا:

 اکتوبر 1958 میں ایوب خان نے، جو اس وقت پاک فوج کے کمانڈر انچیف تھے، مارشل لاء لگا دیا اور پاکستان کے صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔

 1959میں اس نے خود کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی، جو کہ فوج میں سب سے زیادہ ممکنہ رینک ہے۔

 یہ ترقی جنگی فتح یا فوجی اداروں کی سفارش کا نتیجہ نہیں تھی۔ اس کے بجائے، یہ ایک سیاسی اقدام تھا کہ ریاست کے سربراہ اور اعلیٰ فوجی رہنما دونوں کے طور پر اپنے اختیار کو مستحکم کیا جائے۔

حرکت کے پیچھے وجوہات:

 طاقت کا استحکام: صدر اور فوج کے سربراہ کی حیثیت سے، اعلیٰ ترین فوجی عہدے کو اپنانے سے اسے مسلح افواج پر مکمل کنٹرول حاصل ہو گیا۔

 وقار اور میراث: فیلڈ مارشل کا عہدہ عظیم علامتی اور رسمی وقار رکھتا ہے۔ ایوب خان اپنی حیثیت کو عظیم فوجی لیڈروں سے بلند کرنا چاہتے تھے۔

 پاکستان میں اس کی کوئی نظیر نہیں: ایوب خان پاکستان کی تاریخ میں واحد شخص ہیں جو فیلڈ مارشل کے عہدے پر فائز رہے۔  کوئی رسمی جواز یا روایتی معیار نہیں تھا۔

1965 کی جنگ کے بارے میں غلط فہمی:

 بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ایوب 1965 کی جنگ کی وجہ سے فیلڈ مارشل بنے، لیکن یہ غلط ہے۔ جنگ ان کی ترقی کے 6 سال بعد ہوئی تھی اور اس کے نتائج پر بحث کی جاتی ہے-

ہندوستان اور پاکستان دونوں ہی فتح کا دعویٰ کرتے ہیں، جبکہ بہت سے تجزیہ کار اسے تعطل کا شکار سمجھتے ہیں۔

 ایوب خان کا 1959 میں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی ایک خود ساختہ، سیاسی فیصلہ تھا جس کا مقصد پاکستان کے سول اور ملٹری ڈھانچے پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنا تھا۔ اس کا 1965 کی جنگ سے کوئی تعلق نہیں تھا جو بہت بعد میں ہوئی۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر:

.

2025 میں بھارت کے ساتھ حساس تنازعہ کے دوران جرات مندانہ کمانڈ اور آپریشن ’بنیان مرصوص‘ میں کلیدی کردار پر حکومت نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ان کو اس عہدے  پر فائز کیا۔ جو وقت کی ضرورت اور حقیقت پر مبنی تھی۔

اس پروموشن کی وجوہات اور اثرات

فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی صرف جنگی فتوحات یا خدمات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی، تزویراتی اور علامتی فیصلہ بھی ہوتا ہے۔ جنرل منیر کی ترقی کے پیچھے مندرجہ ذیل اہم پہلو شامل ہیں:

اعلیٰ قیادت اور فیصلہ سازی:

بھارت کے ساتھ حالیہ تناؤ میں مؤثر حکمت عملی اور مضبوط کمانڈ۔

داخلی استحکام:

 بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تقرری اندرونی عسکری سیاست میں توازن قائم کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔

فوجی اسٹرکچر میں تبدیلی:

 ماہرین کا خیال ہے کہ اب “چیف آف ڈیفنس اسٹاف” اور “وائس چیف آف آرمی اسٹاف” جیسے نئے عہدوں کی تشکیل ممکن ہے، جو فوجی کمانڈ کو مزید مربوط اور مضبوط بنا سکتے ہیں۔

فیلڈ مارشل کا علامتی مقام:

فیلڈ مارشل کا رینک صرف ایک فوجی عہدہ نہیں بلکہ ایک قومی علامت بن چکا ہے۔ یہ اس افسر کی قائدانہ صلاحیت، قومی سلامتی میں خدمات اور تاریخی حیثیت کو تسلیم کرنے کا اظہار ہوتا ہے۔ جنرل منیر کا یہ تقرر مستقبل میں پاکستان کے فوجی اور سیاسی نظام پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

 اب نئی تاریخ رقم ہو چکی ہے:

فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا تقرر پاکستان کی  تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ وہ صرف رینک میں ہی نہیں بلکہ اثر و رسوخ، اسٹرٹیجک ویژن اور قیادت میں بھی ایک ممتاز حیثیت حاصل کر چکے ہیں۔

آئندہ مہینے اور سال یہ واضح کریں گے کہ ان کی قیادت کس حد تک قومی و علاقائی منظرنامے کو بدلتی ہے۔ ایک  بات تو طے ہے کہ دنیا کو باور کرانا ضروری تھانہ ذندہ قومیں اپنے قومی ہیروز کو کبھی نہیں بھولتیں۔ بلا شبہ اس وقت کی عسکری قیادت ہمارے ہیروز ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عبید الرحمان عباسی

مصنف سابق سینئر ایڈیشنل ڈائریکٹر لاء پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اسلام آباد میں مقیم ایوی ایشن اینڈ انٹرنیشنل لاء کنسلٹنٹ ہیں۔ ان سے [email protected] پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان آرمی جنرل عاصم منیر فیلڈ مارشل

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان ا رمی فیلڈ مارشل فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی فیلڈ مارشل کا پاکستان کی ایوب خان پر فائز کی جنگ

پڑھیں:

کلچر کب تہذیب بنتا ہے

سماجی و کلچرل ارتقا ایک جامع اصطلاح ہے جو کلچرل ارتقاCultural Evolutionاور سماجی ارتقاSocial evolution کے مختلف نظریات پر مشتمل ہے۔یہ نظریات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کلچرز اور معاشرے وقت کے ساتھ کس طرح بدلتے اور ترقی کرتے ہیں۔سماجی و کلچرل ارتقا کو ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے کی ساخت اور تنظیم میں تبدیلی آتی ہے اور معاشرہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنی ابتدائی شکل سے معیار،خصوصیات اور ساخت کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے۔

ماہرینِ بشریات یعنی اینتھروپالوجسٹ اور ماہرینِ عمرانیات عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سماجی رجحانات رکھتا ہے اور اس کے بہت سے سماجی رویوں کی وجوہات جینیاتی یعنی وراثتی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے سماجی عوامل اور مختلف حالات کارفرما ہوتے ہیں۔معاشرے ایک پیچیدہ سماجی ماحول میں وجود پذیر ہوتے ہیں اور خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالتے رہتے ہیں۔اسی لیے یہ ایک لازمی حقیقت ہے کہ تمام معاشرے وقت کے ساتھ تبدیلی سے گزرتے رہتے ہیں۔

سماجی و کلچرل ارتقا کے نظریات پیش کرنے والوں میںAuguste Comte،ہربرٹ  سر اور لیوس مورگن نمایاں تھے۔ان کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ زیادہ مہذب اورترقی یافتہ بنتے جاتے ہیں۔ان نظریات سے بھی بہت پہلے چودھویں صدی عیسوی کے عظیم مسلمان تاریخ دان اور مفکر ابنِ خلدون نے یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ معاشرے زندہ جانداروںLiving organizms کی مانند ہوتے ہیں۔وہ قدرتی اور آفاقی اسباب کے تحت ایک چکرCycleسے گزرتے ہیں یعنی ان کی پیدائش،نشوونما،بلوغت اور آخرکار ان کے لیے موت ناگزیر ہو جاتی ہے۔جرمن فلسفی ہیگلHegel کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک قدیم ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں۔

شاید اس وقت وہ حالتِ فطرت میں ہوتے ہیں اور پھر ترقی کرتے ہوئے صنعتی یورپ جیسے معاشرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اسی طرح ایڈم فرگوسن،جان ملر اور ایڈم اسمتھ کا موقف تھا کہ تمام معاشرے ترقی کے چار بنیادی مراحل سے گزرتے ہیں پہلا مرحلہ شکار اور خوراک جمع کرنے کا دور،دوسرا مویشی پالنے اور خانہ بدوشی کا دور،تیسرا مرحلہ زرعی دور اور چوتھا تجارت اور صنعت کا دور۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ تمام ماہرین ابنِ خلدون کے خوشہ چین نظر آتے ہیں۔

تہذیب ،سویلائزیشن کی اصطلاح بنیادی طور پر انسانی کلچر کے اس مادی اور عملی پہلو کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی،سائنس اور محنت کی تقسیم یعنیDivision of Labourکے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہو۔قدیم زمانے میں مہذب لوگوں کی اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی تھی تاکہ انھیں وحشی اور ابتدائی Primitiveسے الگ ظاہر کیا جا سکے۔آج کے دور میں مہذب معاشروں کا تقابل اکثر مقامی یا قبائلی معاشروں سے کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی بہت افسوس ناک ہے کہ بظاہر تہذیب یافتہ اقوام نے وسائل پر قبضے کے لیے بظاہر وحشیوں پر بہت مظالم ڈھائے۔تاہم آج کل اس اصطلاح کو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں تہذیب اور کلچر کو تقریباً ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔اس وسیع مفہوم کے مطابق تہذیب سے مراد کوئی بھی اہم نمایاں اور واضح طور پر منظم انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے۔

ایک اینتھروپالوجسٹ کے مطابق کلچر اس وقت تہذیب میں ڈھل جاتا ہے جب خاندان،گروہ یا سوسائٹی جسمانی،ذہنی یا مالی طور پر معذور فرد کی نگہداشت شروع کر دیتی اور اس کے لیے اسپتال اور ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔انھیں معذور ہونے کی بنا پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑ دیا جاتا۔اس نے کہا کہ کھدائیوں کے دوران اگر کسی ڈھانچے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑی ہوئی ملے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس معاشرے نے معذور افراد کی دیکھ بھال کے نظام کو عملی طور پر اپنا رکھا تھا ورنہ وہ فرد خود کسی قابل نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک اور پیاس سے مر جاتا۔

 تہذیب انسانی معاشرے کی ترقی کی وہ بظاہر اعلیٰ ترین منزل ہے جہاں لوگ صرف اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ self actualizationکی طرف قدم بڑھاتے،منظم سیاسی،معاشی،سماجی،علمی،مذہبی اور کلچرل ادارے تشکیل دیتے ہیں۔تہذیب دراصل انسانی زندگی کے اس منظم اور ترقی یافتہ نظام کا نام ہے جس میں علم،فن، قانون، ریاست، عدالت، تجارت، شہروں کا بسایا جانا،نمایندہ عمارتوں کی تعمیر،روزافزوں ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سب ایک دوسرے سے مل کر ایک مستحکم معاشرہ وجود میں لاتے ہیں۔لفظ سویلائزیشن لاطینی لفظ Civisیعنی شہری سے نکلا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہذیب کا شہری زندگی،منظم حکومت اور اجتماعی اداروں سے گہرا تعلق ہے۔تہذیب کلچر کا منظم،ترقی یافتہ اور ادارہ جاتی Institutionalizedروپ ہے جس میں حکومت،قانون،عدالت،شہروں کی منصوبہ بندی،تجارت،سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہو جاتے ہیں۔

آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق Civilization rise where societies successfully respond to challenges..ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کلچر تہذیب میں نہیں ڈھلتا لیکن جب اس کے اندر یہ عناصر جیسے خانہ بدوشی کے بجائے مستقل آبادیاں قائم ہو جائیں،زراعت فوڈ سیکیورٹی کی ضامن بن جائے،منظم حکومت ،معاشی نظام ہو،سماجی ادارے بن جائیں،سائنس اور ٹیکنالوجی،فنونِ لطیفہ،مذہب، فلسفہ اور محنت کی تقسیم ہو تو کلچر، تہذیب کہلا سکتا ہے۔

تہذیبوں کے زوال کے عمومی اسباب کا جائزہ لیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ عظیم تہذیبیں جب اخلاقی انحطاط کا شکار ہوئیں،سیاسی بدعنوانی حد کو چھونے لگی،معاشی بحران نے جنم لے لیا،بیرونی حملے روکے نہ جا سکے،باہم اختلافات بہت بری صورت اختیار کر گئے،علمی و فکری جمود طاری ہوا اورماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے قابل نہ رہیں تو یہ تہذیبیں زوال آشنا ہو کر مٹ گئیں۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار