فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملٹری ڈپلومیسی سے ملک بحرانوں سے نکل آیا، ایکس سروس مین سوسائٹی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کا کہنا ہے کہ آرمی چیف عاصم منیر کی فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دشمن کے لیے پیغام ہے کہ اس طرح کی کوئی کوشش آئندہ کی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب: فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نوجوانوں اور میڈیا کو ’فولادی دیوار‘ قرار دیدیا
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایکس سروس مین سوسائٹی کے عہدیداروں نے کہا جو کمانڈر فیلڈ میں آؤٹ اسٹینڈنگ کارکردگی دکھاتا ہے اسے فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا جاتا ہے، ماضی میں یاد رکھے جانے والے فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان، جنرل غائب جنہوں نے ویتنام کی جانب سے امریکا کو شکست دی، آئزن ہاور جنہوں نے اپنی قوم کو فتح دلائی، ان تینوں کی خصوصیات فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر میں موجود ہیں۔
پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ اپنی سوسائٹی اور پوری قوم کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مبارک باد دیتے ہیں، جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے دشمن کو میدان جنگ سمیت ہر محاذ پر شکست دی اور دنیا کو بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی سے جنگ کیسے لڑی جاتی ہے، ہم نے اپنے دشمن بھارت کو ہر محاذ پر شکست دی ہے، اس وقت پوری قوم سپہ سالار کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری افواج نے دنیا کو ثابت کر دیا کہ پاکستان ایک مضبوط اور طاقتور ملک ہے، دنیا نے 4 دہائیوں بعد پاکستان کی بات سنی شروع کی ہے اور اس کا اعزاز بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جاتا ہے، جن دوست ممالک کے ساتھ تعلقات جو سرد مہری کا شکار تھے جن میں ترکی، چین اور آذربائجان شامل ہیں، انہوں نے بھی پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔
مزید پڑھیے: آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی کا نوٹیفکیشن جاری
پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جب اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا تو پاکستان پر مختلف پابندیاں اور دباؤ تھے، لیکن جنرل عاصم منیر کی ملٹری ڈپلومیسی کے باعث ملک تمام بحرانوں سے نکال گیا ہے، آج پاکستان کا شمار ان ریاستوں میں ہوتا ہے جہاں لوگ آ کر رہنا چاہتے ہیں۔
ایکس سروس مین نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر صرف جرنل ہی نہیں، وہ ایک محبت کرنے والے اور انسانیت کا درد رکھنے والے انسان ہیں، وہ شہدا کے گھروں میں جاتے ہیں، جوانوں کا دکھ درد سہتے ہیں، افسروں کی تربیت کرتے ہیں اور ہم ان میں تمام بڑے لیڈرز کی صفات دیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم افواج پاکستان، عوام پاکستان، اپنی لیڈر شپ خصوصاً ملٹری لیڈر شپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ہم اپنے شہدا اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، ہمارے دلوں اور خون میں پاکستان ہے۔
ایڈمرل ریٹائرڈ احمد تسنیم نے اس موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں جب 25 سال کا تھا تو میں پہلے فیلڈ مارشل ایوب خان کا اے ڈی سی تھا، ہمارے خون اور خوابوں میں پاکستان ہے، سنہ 1965 کی جنگ میں میں غازی تھا، جو جذبہ اس وقت تھا اب بھی وہی ہے، اس مرتبہ بھی افواج نے اپنی بہترین حکمت سے جنگ لڑی اور جیتی، آج پاکستان معتبر ریاستوں میں شامل ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن ملک بھارت نے جب پاکستان پر حملہ کیا تو جنرل عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان کی تیاری نے قوم کی بھرپور لاج رکھی۔
ایئر وائس مارشل ریٹائرڈ فہیم احمد نے کہا کہ پاکستانی میڈیا کے سچ نے بھارتی میڈیا کو دفن کر دیا، پوری قوم میڈیا کی شکر گزار ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں افواج پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا۔
انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے بھرپور جواب دیا ہے، ایئر فورس نے جو کیا وہ پوری دنیا نے دیکھا اور اس کارکردگی کو سراہا، جنگ کے دنوں میں ایئر چیف نے اپنا بستر آپریشن روم میں لگا لیا، انہوں نے کہا کہ I want Rafale and S400 ۔
ایڈمرل ریٹائرڈ علیم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اللّٰہ نے ہمیں فتح مبین عطا کی، ہم سے کئی گنا بڑا ملک اور کئی گنا زیادہ ملٹری بجٹ والا ملک ہم سے ہار گیا، اس کا خراج تحسین موجودہ افواج اور جب سے پاکستان بنا اس وقت سے پاک فوج میں رہنے والے افسران اور سپاہیوں کو جاتا ہے، اس معرکے نے علاقائی صورتحال کو بدل دیا ہے، آنے والے دور میں یہ سب پڑھایا جائے گا کہ کیسے ایک چھوٹے ملک نے اپنے سے کئی گنا بڑے ملک کو شکست دی، اس وقت پورے قوم ایک پیج پر ہے۔
مزید پڑھیں: آرمی چیف نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا: وزیراعظم کی فیلڈ مارشل بننے پر مبارکباد
جنرل ریٹائرڈ لیاقت نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت جو 4 دنوں کی جنگ تھی اس سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عام تاثر یہ ہے کہ پاک فوج زمانہ امن میں کچھ نہیں کرتی لیکن اس جنگ نے ثابت کردیا کہ ہماری فوج ہر وقت تیار رہتی ہے اور اس کی بہترین ٹریننگ ہوئی ہے۔
جنرل ریٹائرڈ منشا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ افواج نے ہمارا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری یہ ذمے داری ہے کہ ہم آنے والے دور میں افواج پاکستان کو ایسے ہی لوگ دیں جیسے موجودہ قیادت میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی ایک بھی جوان کو جنگ میں لڑنے یا شہید ہونے کا خوف نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایکس سروس مین سوسائٹی پاک افواج پاک بھارت کشیدگی ملٹری ڈپلومیسی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایکس سروس مین سوسائٹی پاک افواج پاک بھارت کشیدگی ایکس سروس مین سوسائٹی فیلڈ مارشل عاصم منیر جنرل عاصم منیر کی انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان پاکستان ایک افواج پاک ا رمی چیف کہا کہ ہم کہ ہماری کہ پاک
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔