حجرہ شاہ مقیم ،یوسی ناظم کے قاتل کو تین بار عمر قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
حجرہ شاہ مقیم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 مئی2025ء)ایڈیشنل سیشن جج دیپالپور طارق سلیم چوہان نے سیاسی مخالفت اور سابقہ دشمنی پر قتل کے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر مجرم وسیم عباس کو تین مرتبہ عمر قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے، بصورتِ دیگر چھ ماہ اضافی قید بھگتنا ہوگی۔
(جاری ہے)
مجرم وسیم عباس نے 2015میںبلدیاتی الیکشن مہم کے دوران کلاشن کو ف سے فائرنگ کر کے اپنے سیاسی حریف چیئرمین مارکیٹ کمیٹی و سابق ناظم یونین کونسل ملک محمد اسلم چنا اور انکے ساتھی کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھاجو اس الیکشن میں چیئر مین کے امیدوار تھے ۔
پولیس کی موثر تفتیش اور قانونی ٹیم کی محنت کے باعث عدالت نے مجرم کو قرار واقعی سزا سنائی۔ڈی پی اوراشد ہدایت نے کیس کے تفتیشی افسر اور پراسیکیوشن ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بے گناہ انسان کا ناحق خون بہانے والا کسی بھی رعایت کا مستحق نہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔