Islam Times:
2026-06-03@02:06:55 GMT

نیتن یاہو کی نئی مشکل

اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT

نیتن یاہو کی نئی مشکل

اسلام ٹائمز: ڈیوڈ زینی کو شین بت کے سربراہ کا عہدہ دینے کے ایک دن بعد ہی نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ وہ قطر گیٹ نامی کیس کی تحقیق میں شامل نہیں ہو گا۔ سپریم کورٹ، اپوزیشن جماعتوں اور نظارتی گروہوں نے بنجمن نیتن یاہو کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ ڈیوڈ زینی کو شین بت کے عہدے پر مقرر کرنے کا فیصلہ نیتن یاہو کے لیے ایک اور مشکل بن سکتا ہے۔ 2002ء میں وضع ہونے والے قانون میں اس عہدے کی تقرری کا طریقہ یوں بیان ہوا ہے کہ وزیراعظم اس عہدے کے لیے ایک نام دے گا اور اس کے بارے میں کابینہ میں ووٹنگ ہو گی۔ اسی طرح یہ شرط بھی لگائی گئی ہے کہ اس بارے میں ووٹنگ سے پہلے اس شخص کا نام "اعلی سطحی عہدوں کی مشاورتی کمیٹی" میں منظور ہونا بھی ضروری ہے۔ ابھی نیتن یاہو کے پاس اپنے اس فیصلے کی منظوری کے لیے صرف دو ہفتے کا وقت باقی ہے۔ تحریر: علی حریت
 
گذشتہ تقریباً ڈیڑھ برس سے صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے لیے بہت سی مشکلات کھڑی کر رکھی ہیں جن میں غزہ کی پٹی میں تباہ کن جنگ جو ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی سے لے کر ڈونلڈ ٹرمپ کو خود سے ناراض کرنے اور انٹیلی جنس ایجنسی شاباک کے سابق سربراہ رونن بار سے ٹکر لینے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے احکام سے روگردانی پر مشتمل ہیں۔ رونن بار کا مسئلہ گذشتہ ایک سال سے غاصب صیہونی رژیم کی داخلہ سیاست کا ایک اہم ایشو بنا ہوا ہے اور اس کی روشنی میں انٹیلی جنس ایجنسی شاباک اور عدلیہ کی خودمختاری کے بارے میں سنجیدہ تشویش پیدا ہو چکی ہے۔ رونن بار شین بت کے سربراہ کے طور پر ایک اہم اسرائیلی سیاست دان بھی سمجھا جاتا ہے جو شاباک کے طور پر بھی معروف ہے۔ یہ مسئلہ رونن بار کی جانب سے ایک خودمختاری تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا مشورہ دیا تھا۔
 
اس تحقیقاتی کمیٹی کا مقصد طوفان الاقصی آپریشن میں شکست کے حقیقی اسباب واضح کرنا تھا تاکہ اس طرح معلوم ہو سکے کہ اسرائیل کی اس عظیم انٹیلی جنس شکست میں ہر ادارہ کس حد تک قصوروار ہے۔ ساتھ ہی شین بت نے اسرائیل کے محکمہ پولیس کے ہمراہ "قطر گیٹ" نامی وزیراعظم ہاوس کی کرپشن کے بارے میں کیس کی تحقیق بھی شروع کر دی تھی۔ نیتن یاہو کے دفتر میں کام کرنے والے دو افراد یعنی الی فیلڈ اشتاین اور یوناتھن اوریخ پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر قطر حکومت سے بڑے پیمانے پر رشوت وصول کی تاکہ اپنے زیر کنٹرول ذرائع ابلاغ میں قطر کا اچھا چہرہ پیش کریں اور حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں اس کے کردار کو اجاگر کریں۔ فروری کے مہینے میں نیتن یاہو نے اعلانیہ طور پر رونن بار پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے اس کے عہدے سے برطرف کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
 
لیکن نیتن یاہو ایسا نہ کر سکا اور اسرائیل کے اٹارنی جنرل گالی بہارا اومیارا نے رونن بار کی برطرفی کو غیر قانونی قرار دے کر عدلیہ سے اس کے خلاف فیصلہ لے لیا۔ اس دوران نیتن یاہو نے شدید ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صیہونی نیوی کے سربراہ الی شرویت کو شاباک کا نیا سربراہ مقرر کر دیا جسے انٹیلی جنس کے شعبے میں کوئی تجربہ حاصل نہیں تھا۔ لیکن شرویت نے ایک دن بعد ہی یہ عہدہ چھوڑ دیا کیونکہ وہ بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے "عدلیہ میں اصلاحات" نامی منصوبے سے شدید مخالفت رکھتا تھا۔ اس کے بعد نیتن یاہو نے اس عہدے کے لیے کسی اور وفادار شخص کی تلاش شروع کر دی۔ اپریل میں نیتن یاہو اور رونن بار کے درمیان اختلافات کا جائزہ لینے کے لیے عدالتی کاروائی کا آغاز ہوا۔ رونن بار کو اگرچہ عدلیہ کی بھرپور حمایت حاصل تھی لیکن اس نے دو ماہ تک استعفی دینے کا اعلان کر دیا۔
 
21 مئی کے دن صیہونی سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ جاری کرتے ہوئے ایک بار پھر رونن بار کی اس کے عہدے سے برطرفی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ اسی طرح گالی بہارا اومیارا نے اعلان کیا کہ نیتن یاہو سے شین بت کا نیا سربراہ مقرر کرنے کا اختیار واپس لے لیا گیا ہے اور اگر اس نے ایسا کیا تو اس کے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔ لیکن نیتن یاہو طاقت کے نشے میں مست تھا اور اس نے رونن بار کے استعفی کا انتظار کیے بغیر اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو پس پشت ڈالتے ہوئے جنرل ڈیوڈ زینی کو شین بت کا نیا سربراہ مقرر کر دیا ہے اور اس نے یکم جون سے اپنے کام کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ جنرل ڈیوڈ زینی ماضی میں لبنان کی خانہ جنگی، مغربی کنارے پر اسرائیلی حملوں، 33 روزہ حزب اللہ اور اسرائیل کی جنگ اور غزہ میں کئی حملوں میں شرکت کر چکا ہے۔
 
اس نے دس سال پہلے صیہونی فوج میں کمانڈو یونٹ کی بنیاد رکھی تھی۔ بنجمن نیتن یاہو اور ڈیوڈ زینی میں پہلی ملاقات تسلیم فوجی اڈے پر ہوئی جہاں ان دونوں میں پانچ منٹ کی گفتگو ہوئی تھی۔ زینی نے اس سے پہلے کسی قسم کی انٹیلی جنس سرگرمیاں انجام نہیں دیں اور اس شعبے میں اسے کوئی تجربہ حاصل نہیں ہے۔ نیتن یاہو نے صرف اپنی وفاداری کی نسبت اس پر اعتماد کی بنیاد پر اسے یہ عہدہ دیا ہے۔ ڈیوڈ زینی کے نیتن یاہو کی بیوی سارا سے بھی اچھے سیاسی تعلقات ہیں اور سارا نیتن یاہو کی لابی کی مدد سے وہ گذشتہ برس صہیونی فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے کے بہت قریب پہنچ گیا تھا۔ اسی طرح زینی کے اس امریکی خاندان سے بھی بہت قریب تعلقات ہیں جو بنجمن نیتن یاہو کا مالی حامی تصور کیا جاتا ہے۔
 
ڈیوڈ زینی کو شین بت کے سربراہ کا عہدہ دینے کے ایک دن بعد ہی نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ وہ قطر گیٹ نامی کیس کی تحقیق میں شامل نہیں ہو گا۔ سپریم کورٹ، اپوزیشن جماعتوں اور نظارتی گروہوں نے بنجمن نیتن یاہو کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ ڈیوڈ زینی کو شین بت کے عہدے پر مقرر کرنے کا فیصلہ نیتن یاہو کے لیے ایک اور مشکل بن سکتا ہے۔ 2002ء میں وضع ہونے والے قانون میں اس عہدے کی تقرری کا طریقہ یوں بیان ہوا ہے کہ وزیراعظم اس عہدے کے لیے ایک نام دے گا اور اس کے بارے میں کابینہ میں ووٹنگ ہو گی۔ اسی طرح یہ شرط بھی لگائی گئی ہے کہ اس بارے میں ووٹنگ سے پہلے اس شخص کا نام "اعلی سطحی عہدوں کی مشاورتی کمیٹی" میں منظور ہونا بھی ضروری ہے۔ ابھی نیتن یاہو کے پاس اپنے اس فیصلے کی منظوری کے لیے صرف دو ہفتے کا وقت باقی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ڈیوڈ زینی کو شین بت کے بنجمن نیتن یاہو نیتن یاہو کی نیتن یاہو نے نیتن یاہو کے کے بارے میں سپریم کورٹ انٹیلی جنس کے لیے ایک میں ووٹنگ کے سربراہ نے اعلان عہدے کے کرنے کا کے عہدے اور اس کر دیا

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان