نئی سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی تیار، جلد اعلان ہوگا: وزیر توانائی لغاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے سولر نیٹ میٹرنگ کے لیے نئی پالیسی تیار کر لی ہے، جس کا مقصد ملک میں قابل تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چاہتے ہیں لوگ سولر نیٹ میٹرنگ لگائیں تو تین، 4 سال میں پیسے پورے کرکے خوش ہوجائیں، سردار اویس خان لغاری
انہوں نے بتایا کہ اس پالیسی کے تحت صارفین کو بجلی کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ پہنچے گا، اور نیٹ میٹرنگ کے عمل کو مزید آسان اور شفاف بنایا جائے گا۔ وزیر توانائی نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور قابل تجدید ذرائع کی حمایت جاری رکھے گی۔
یہ اقدام ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
نئی پالیسی کے تحت سولر پینلز لگانے والے صارفین کو اضافی بجلی قومی گرڈ میں شامل کرنے کی سہولت دی جائے گی، جس سے نہ صرف ان کے بجلی کے بلوں میں کمی آئے گی بلکہ ملک میں توانائی کی پیداوار بھی بڑھے گی۔
وزیر توانائی نے مزید کہا کہ حکومت اس پالیسی کے ذریعے عوام کو سستی اور ماحول دوست توانائی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور جلد ہی اس پالیسی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
یہ پالیسی ملک میں توانائی کے شعبے میں ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف صارفین کو فائدہ ہوگا بلکہ ملک کی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اویس لغاری سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی وزیرتوانائی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اویس لغاری سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی وزیرتوانائی سولر نیٹ میٹرنگ وزیر توانائی توانائی کے ملک میں کے لیے
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔