وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے سولر نیٹ میٹرنگ کے لیے نئی پالیسی تیار کر لی ہے، جس کا مقصد ملک میں قابل تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چاہتے ہیں لوگ سولر نیٹ میٹرنگ لگائیں تو تین، 4 سال میں پیسے پورے کرکے خوش ہوجائیں، سردار اویس خان لغاری

انہوں نے بتایا کہ اس پالیسی کے تحت صارفین کو بجلی کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ پہنچے گا، اور نیٹ میٹرنگ کے عمل کو مزید آسان اور شفاف بنایا جائے گا۔ وزیر توانائی نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور قابل تجدید ذرائع کی حمایت جاری رکھے گی۔

یہ اقدام ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

نئی پالیسی کے تحت سولر پینلز لگانے والے صارفین کو اضافی بجلی قومی گرڈ میں شامل کرنے کی سہولت دی جائے گی، جس سے نہ صرف ان کے بجلی کے بلوں میں کمی آئے گی بلکہ ملک میں توانائی کی پیداوار بھی بڑھے گی۔

وزیر توانائی نے مزید کہا کہ حکومت اس پالیسی کے ذریعے عوام کو سستی اور ماحول دوست توانائی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور جلد ہی اس پالیسی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

یہ پالیسی ملک میں توانائی کے شعبے میں ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف صارفین کو فائدہ ہوگا بلکہ ملک کی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اویس لغاری سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی وزیرتوانائی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اویس لغاری سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی وزیرتوانائی سولر نیٹ میٹرنگ وزیر توانائی توانائی کے ملک میں کے لیے

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کردیا
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا