سیکیورٹی فورسز کی لورا لائی اور کیچ میں کارروائیاں، 5 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
فائل فوٹو۔
سیکیورٹی فورسز نے بھارتی پراکسی تنظیم "فتنہ الہندوستان" کے 5 دہشت گرد ہلاک کردیے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے 28 مئی کو بلوچستان میں 2 مختلف کارروائیاں کیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع لورا لائی میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا گیا۔ جس کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔
شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے 4 دہشتگرد مارے گئے، دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد ہوا۔ ہلاک دہشتگرد دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ضلع کیچ میں بھی کارروائی کی جس میں ایک دہشتگرد مارا گیا۔
یہ بھی پڑھیے خیبر پختون خوا: سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 9 بھارتی اسپانسرڈ خوارج ہلاک سیکیورٹی فورسز کا آواران اور کیچ میں آپریشن، 3 دہشتگرد مارے گئےہلاک دہشتگرد 26 اگست 2024 اور 18 فروری 2025 کو این 70 پر راراشام کے قریب حملوں میں شامل تھا۔ ان حملوں میں 30 معصوم شہری شہید ہوئے تھے، بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز ان دہشت گردوں کا مسلسل تعاقب کر رہی تھیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی سرپرستی میں ہونیوالی دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے پرعزم ہیں اور دہشت گردی میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے مطابق سیکیورٹی فورسز آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔