اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 30 مئی 2025ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ مسلح تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرتی دنیا میں اقوام متحدہ کی امن کاری پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے جسے دور حاضر کے حقائق اور مستقبل کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دینا ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کی امن کاری کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ امن کار غیرمتزلزل جرات کے ساتھ خطرات کا سامنا کرتے ہوئے لوگوں کو تحفظ دینے، امن برقرار رکھنے اور دنیا کے بعض مشکل ترین حالات میں امید بحال کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

دہشت گردی جیسے بہت سے خطرات کی موجودگی میں امن کارروائیاں مزید مشکل ہو گئی ہیں۔ مہلک اثرات کی حامل غلط اطلاعات سے امن کاروں کو ہدف بنایا جا رہا ہے اور سرحدوں سے ماورا خطرات ان کے علاوہ ہیں۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا ہے کہ مستقبل کو دیکھتے ہوئے امن کاروں کو اپنا کام انجام دینے کے لیے سازگار حالات، تحفظ اور وسائل دستیاب ہونا ضروری ہیں اور ایسا کرنا اقوام متحدہ اور رکن ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

کامیاب امن کاری

'امن کاری کا مستقبل' رواں سال اس عالمی دن کا خاص موضوع ہے۔ سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ امن کاروں کو تیزی سے پیچیدہ ہوتی دنیا میں بڑھتے ہوئے پیچیدہ حالات کا سامنا ہے۔ گزشتہ سال اقوام متحدہ میں طے پانے والے مستقبل کے معاہدے میں امن کاری کو تبدیل ہوتی دنیا کے مطابق بنانے کا وعدہ بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ یہ مسئلہ ایک اہم موقع کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔

اس کے ذریعے یہ تجزیہ کیا جا سکتا ہے کہ امن کاری کو کامیاب بنانا کیسے ممکن ہے۔ اس کی بدولت قیام امن کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں، اس سے مستقبل پر مرتکز ایسے طریقے وضع کیے جا سکتے ہیں جن کی بنیاد مسائل کے سیاسی حل اور حسب ضرورت وسائل کی دستیابی پر ہو اور امن کاروں کو قابل حصول ذمہ داریاں دی جائیں اور ان کے پاس واپسی کی واضح حکمت عملی بھی ہو۔

انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ اس ضمن میں پہلا قدم یعنی امن کارروائیوں کا جائزہ اس وقت جاری ہے اور باہم مل کر اس اہم کوشش کو آگے بڑھایا جائے گا۔

امن کاروں کی قربانیاں

سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ آج امن کاروں کی خدمات کو تکریم پیش کرنے کا دن ہے۔ ان کی مضبوطی، لگن اور جرات قیام امن و سلامتی کےکام میں باعث تحریک ہے۔ یہ ان تمام بہادر خواتین اور مردوں کو یاد کرنے کا دن ہے جنہوں نے امن کے لیے بہت بڑی قربانیاں دیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ 57 سال میں اقوام متحدہ کے 4,400 امن کار اپنے فرائض کی ادائیگی میں جانیں دے چکے ہیں۔ ادارہ انہیں کبھی نہیں بھلائے گا اور ان کے کام کو آگے بڑھاتا رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امن کاروں کو اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ امن کاری

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت