نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ثالثی تنظیم (IOMed) کے قیام کی دستخطی تقریب میں پاکستان کی نمائندگی ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ وہ ہانگ کانگ میں منعقدہ تاریخی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جہاں IOMed کے قیام سے متعلق کنونشن پر دستخط کیے گئے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ عوامی جمہوریہ چین کو اس سنگ میل تقریب کی میزبانی پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کو عملی جامہ پہنانے میں چین کی قیادت کا کلیدی کردار ’چینی دانشمندی‘ کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب نہ صرف بین الاقوامی ثالثی اور سفارتکاری کے ایک نئے دور کا آغاز ہے بلکہ کثیرالجہتی اور ثالثی کے اصولوں پر مبنی ایک نئے عالمی ادارے کی پیدائش کی علامت بھی ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ IOMed کا قیام ثالثی کے میدان میں اسی طرح غیر معمولی ہے جیسے ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) فنانس کے شعبے میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو IOMed کے بانی رکن کے طور پر شامل ہونے پر فخر ہے۔

مزید پڑھیں: اسحاق ڈار کا ازبک وزیر خارجہ سے رابطہ، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

انہوں نے ہانگ کانگ کو تنظیم کے صدر دفتر کے طور پر منتخب کیے جانے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ شہر مشرق اور مغرب کو جوڑنے والا ایک متحرک مرکز ہے، جو اس نئی عالمی تبدیلی کی میزبانی کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے بین الاقوامی ثالثی مرکز (IMAC) قائم کیا ہے تاکہ تجارتی اور سرمایہ کاری تنازعات کے حل اور عدالتی عمل کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے IOMed کے سیکرٹریٹ اور IMAC پاکستان کے درمیان تعاون پر امید ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ ثالثی، سفارتکاری، مکالمہ اور بین الاقوامی تعاون عالمی امن، سلامتی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے کلیدی ستون ہیں، اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری اس مقصد کے حصول میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے دنیا کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج نسلِ نو کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے کا خواب پہلے سے کہیں زیادہ دور محسوس ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطینی علاقوں کی صورتحال، غیر ملکی قبضے اور دیرینہ تنازعات علاقائی اور عالمی امن کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔

مزید پڑھیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا آذربائیجان کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کچھ عناصر اقوام متحدہ کے اصولوں اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی انتخابی اور علاقائی بالادستی کے عزائم کے لیے دنیا کے امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے بھارت کی حالیہ فوجی جارحیت کو بلاجواز اور بلا اشتعال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہوئی ہے اور یہ علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ سندھ طاس معاہدے جیسے بین الاقوامی معاہدوں کو مؤخر کرکے نئی خطرناک مثالیں قائم کی جا رہی ہیں، جو انسانی حقوق کی پامالی کے مترادف ہیں۔

اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ IOMed کے قیام سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی برادری اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں کو معمول نہیں بننے دے گی۔ انہوں نے جموں و کشمیر کو جنوبی ایشیا میں تنازعات کی بنیادی جڑ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اس مسئلے کے فوری اور پرامن حل پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو درپیش نئے چیلنجز جغرافیائی، بین الاقوامی اور تکنیکی حدود سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی اور جذبے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے صدر شی جن پنگ کے ’گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو‘ کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ پر مبنی امن و سلامتی کے نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: خضدار واقعہ: نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور، اسحاق ڈار

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ایک اسٹریٹجک شراکت دار اور چین کا ہر موسم کا دوست ہونے کے ناتے، چین کی کثیرالجہتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان کے بقول، IOMed کا قیام دنیا کو زیادہ منصفانہ، جامع اور مساوی بنانے کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان نہ صرف IOMed کو اپنا سفارتی تجربہ فراہم کرے گا بلکہ انصاف، مکالمہ، اور عالمی مساوات کے فروغ میں بھی سرگرم کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئیے ہم سب مل کر اس ادارے کو بااختیار بنائیں تاکہ یہ امن، انصاف، اور مساوات کے فروغ میں اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسحاق ڈار بین الاقوامی ثالثی تنظیم پاکستان چین ہانگ کانگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار بین الاقوامی ثالثی تنظیم پاکستان چین ہانگ کانگ بین الاقوامی ثالثی انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ ہوئے کہا کہ کہ پاکستان کے لیے

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار