علامہ مقصود ڈومکی نے کوئٹہ میں مختلف سیاسی، سماجی و مذہبی شخصیات سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں بانی انقلاب اسلامی آیت اللہ خمینی کی برسی کی مناسبت پر منعقد ہونیوالے کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ اسلام ٹائمز۔ رہبر کبیر، بانیٔ انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی 36ویں برسی کی مناسبت سے مدرسہ خاتم النبیین (ص) کوئٹہ کے زیر اہتمام ایک اہم فکری و نظریاتی کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ کانفرنس "فلسطین کی تحریکِ آزادی کی جدوجہد میں حضرت امام خمینیؒ کا کردار" کے عنوان سے 2 جون کو منعقد ہوگی۔ اس کانفرنس کے سلسلے میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت اور مدرسہ خاتم النبیینؐ کوئٹہ کے پرنسپل علامہ مقصود علی ڈومکی نے مختلف مکاتب فکر کے جید علماء، سیاسی و سماجی رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے صوبائی صدر داؤد شاہ کاکڑ، جماعت اسلامی بلوچستان کے رہنماء محمد عارف دمڑ، ادارہ قرآن بلوچستان کے ڈائریکٹر مولانا ذاکر حسین درانی، جمعیت غرباء اہل حدیث بلوچستان کے صوبائی صدر مولانا فضل ربی، ملی یکجہتی کونسل بلوچستان کے رہنماء مولانا عبدالحق ہاشمی، مرکزی مسلم لیگ کے رہنماء حافظ ادریس مغل، مجلس وحدت مسلمین ہزارہ ٹاؤن کے ضلعی صدر سید مہدی ابراہیمی، نیو کوئٹہ پبلک اسکول کے ڈائریکٹر آغا سید عبدالرؤف سجادی اور معروف سماجی شخصیت کیو آر سی ٹرسٹ کے چیئرمین آغا سید عادل شاہ کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ رہبر کبیر حضرت امام خمینیؒ نہ صرف اسلامی انقلاب کے بانی تھے، بلکہ انہوں نے پوری امت مسلمہ کو اتحاد، حریت، اور ظلم کے خلاف قیام کا درس دیا۔ فلسطین کی مظلوم قوم کی حمایت امام خمینیؒ کی زندگی کا بنیادی اصول تھا۔ ان کی فکر آج بھی حریت پسند اقوام کے لیے مشعل راہ ہے۔ امام خمینیؒ نے اسرائیل کو کینسر کا پھوڑا قرار دیا اور امت مسلمہ کو اسرائیلی ظلم اور قبضے کے خلاف متحد ہونے کا درس دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس امام خمینیؒ کی فکر، فلسفۂ وحدت اور مسئلۂ فلسطین کے دفاع کے حوالے سے بیداری کی ایک مؤثر کوشش ہوگی، جس میں مختلف مکاتب فکر کی نمائندہ شخصیات شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کریں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شرکت کی دعوت علامہ مقصود بلوچستان کے ڈومکی نے

پڑھیں:

شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری

فوٹو: فائل

وزیراعظم اور نائب وزیراعظم سمیت مختلف اعلیٰ حکومتی شخصیات کو 21 قیمتی تحائف ملے، کابینہ ڈویژن نے اپریل تا جون توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری کردیا۔ 

کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم اور نائب وزیراعظم توشہ خانہ تحائف وصول کرنے والوں میں شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کو ایک شوگر باؤل، قیمتی قلم، مسجد نبویﷺ کا ماڈل، شیلڈ اور ٹائی بطور تحفہ ملی۔

دستاویز کے مطابق وزیراعظم کو چینی خلائی اسٹیشن کا ماڈل، ایک کپ، گھڑی اور شیلڈ بھی بطور تحفہ ملی۔ 

دستاویز کے مطابق نائب وزیراعظم کو چمڑے سے بنا چینی بیلٹ، مصری اسٹیچو کا ماڈل اور کف لنکس بطور تحفہ ملے۔ 

دونوں اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات نے حاصل ہونے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع کرا دیے۔ کابینہ ڈویژن کے مطابق وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کو ملنے والے تحائف کی قیمتوں کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان 2027 میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کی میزبانی کرے گا، رکن ممالک کو دعوت
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری