اس وقت سفارتی جنگ جاری ہے اور ہمیں پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، سابق سفیر
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
سابق سفیر اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ اس وقت سفارتی جنگ جاری ہے ہمیں سفارتی جنگ سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، مسئلے کی اصل جڑ مقبوضہ جموں و کشمیر ہے اور بھارت کہتا ہے کہ ہم اس پر بات نہیں کریں گے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام 'سینٹراسٹیج' میں گفتگو کرتے ہوئے بھارت میں پاکستان کے سابق سفیر اعزاز چوہدری نے کہا کہ اس وقت سفارتی جنگ جاری ہے ہمیں اس سفارتی جنگ سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، بھارت کے پاس اس وقت بہت کمزور ایجنڈا ہے، ہمیں دنیا کو بتانا ہے کہ پہلگام واقعے سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی وفود میں شامل تمام لوگ امریکا میں ہی جمع ہو گئے ہیں، سفارتی وفد کو صرف امریکا ہی نہیں بلکہ مختلف ممالک میں پھیلنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری نے پاک-بھارت جنگ میں اچھا کردارادا کیا، بھارت جھوٹ کی بنیاد پر بیانیہ بنا کر لڑ رہا تھا اسی لیے بھارت کے حق میں ایک بھی آواز نہیں اٹھی۔
اعزاز چوہدری نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق معاملہ بہت حساس ہے، عالمی برادری بھارت کو آمادہ کرے کہ وہ ایسا نہ کرے کیوں کہ بھارت ایسا کرے گا تو معاملہ سیدھا جنگ کی طرف جائے گا، ساتھ ہی پانی کو ذخیرہ کرنے پر بھی ہمیں غور کرنا چاہیے۔
سابق سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھارتی جارحیت کے حوالے سے تیاررہنا چاہیے، بھارت میں نریندرمودی نے عجیب جنگی جنون پیدا کردیا ہے، یہ جنگی سوچ خطے اورعالمی امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مسئلے کی اصل جڑ مقبوضہ جموں و کشمیر ہے اوربھارت کہتا ہے کہ ہم اس پربات نہیں کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سفارتی جنگ سابق سفیر نے کہا
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔