نئی دہلی/اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 30 مئی ۔2025 )بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی دھوکے میں نہ رہے ”آپریشن سیندور‘ ‘ابھی ختم نہیں ہوا بھارتی شہر کانپور میں ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کے دوران سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انڈیا نے دہشت گردی کے خلاف اپنی لڑائی میں واضح طور پر تین نکات طے کیے ہیں.

(جاری ہے)

نریندر مودی نے کہا کہ انڈیا ہر دہشت گردانہ حملے کا موثر جواب دے گا انہوں نے واضح کیا کہ اس کا وقت جواب دینے کے طریقہ کار اور اور شرائط ہماری مسلح افواج طے کریں گی انہوں نے کہاکہ دوسرے یہ کہ انڈیا اب ایٹم بم کی گیڈر بھبکی سے نہیں ڈرے گا اور نہ ہی اس کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرے گا. بھارتی وزیر اعظم نے ایک بار پھر پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ پاکستان کا سٹیٹ ایکٹر اور نان سٹیٹ ایکٹر کا کھیل چلنے والا نہیں ہے دشمن کہیں بھی ہو اسے چھوڑا نہیں جائے گا پاکستان ماضی میں بھی کئی بار ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا انڈیا میں کسی بھی حملے سے کوئی تعلق نہیں.

یاد رہے کہ پہلگام حملہ کے بعد انڈیا نے اس کا الزام براہِ راست پاکستان پر عائد کیا جبکہ اسلام آباد نے غیرجانبدرانہ تحقیقات کروانے کی پیشکش کی تھی مگر دہلی نے آج تک پہلگام حملے کی آزدانہ اور غیرجانبدرانہ تحقیقات کی پاکستانی پیشکش کا آج تک جواب نہیں دیا. پہلگام حملے کے بعد بھارت نے یکطرفہ طور پر بین الاقوامی قوانین اور سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے جس کے جواب میں پاکستان نے بھارت کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا دونوں ملکوں کے درمیان چار روز تک جنگی قائم رہی.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں جنگ بندی کے بعد بھی پاکستان نے بھارت کو امن مذاکرات کی دعوت دی مگر دہلی نے مذکرات سے انکار کردیادونوں جوہری طاقت کے حامل ملکوں کے درمیان جنگ بندی کے بعد بھی بھارتی وزیراعظم اور دیگر حکام تواتر سے پاکستانی حدود میں اہداف کو نشانہ بنانے اور حملہ کرنے جیسے اشتعال انگیزبیانات دیتے آرہے ہیں. دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں پاکستانی مسلح افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا اپنی سرحد پر فوجیوں کی تعداد کو رواں ماہ کے اوائل میں شروع ہونے والی کشیدگی سے قبل والی تعداد تک لا رہے ہیں جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ دونوں افواج نے سرحد پر تعینات فوجیوں کی تعداد کم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے انہوں نے بتایا کہ ہم تقریبا 22 اپریل سے پہلے کی صورتحال میں واپس آ چکے ہیں.

بھارت کی وزارت دفاع اور انڈین چیف آف ڈیفنس سٹاف کی جانب سے تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا شنگریلا ڈائیلاگ فورم میں شرکت کے لیے سنگاپور میں موجود جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا کہ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے انہوں نے کہا کہ جوہری ممالک میں تصادم کی صورتحال میں آپ کسی بھی وقت کسی بھی سٹریٹجک غلطی سے انکار نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ بحران کے دوران ردعمل مختلف ہوتا ہے.

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں کشیدگی میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے کیونکہ اس بار لڑائی کشمیر کے متنازع علاقے تک محدود نہیں رہی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے متنبہ کیا کہ مستقبل میں کشیدگی کی صورت میں بین الاقوامی ثالثی مشکل ہوسکتی ہے. انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی برادری کے لیے مداخلت کرنے کا وقت اب بہت کم ہوگااور میں یہ کہوں گا کہ بین الاقوامی برادری کی طرف سے مداخلت سے پہلے ہی نقصان اور تباہی ہوسکتی ہے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان کرائسس ہاٹ لائن اور سرحد پر ٹیکٹیکل سطح پر کچھ ہاٹ لائنز کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی اور رابطہ نہیں ہے. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بین الاقوامی انہوں نے کہا کے درمیان نے کہا کہ کے بعد

پڑھیں:

پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان

لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت