شعیب اختر اور ڈاکٹر نعمان نیاز کا تنازع شدت اختیار کر گیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر اور معروف اسپورٹس اینکر ڈاکٹر نعمان نیاز کے درمیان برسوں پرانا اختلاف ایک بار پھر منظر عام پر آ گیا ہے جس نے اس بار قانونی رخ اختیار کر لیا ہے حالیہ واقعہ کرکٹ شو دی ڈگ آؤٹ کی قسط کے دوران پیش آیا جہاں شعیب اختر نے پرانے کرکٹ سسٹم پر تنقید کرتے ہوئے اپنی گفتگو میں طنزیہ انداز میں کہا کہ ان کے دور میں کوچ اور منیجر کے بارے میں کھلاڑیوں کو کچھ معلوم نہیں ہوتا تھا اور مینیجرز کا کردار بس اتنا ہوتا تھا کہ وہ کھلاڑیوں کے بیگ اٹھائیں اور کمرے تک پہنچائیں شعیب نے اس گفتگو میں براہ راست ڈاکٹر نعمان نیاز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اسی کام کے لیے موجود ہوتے تھے اور کمپیوٹر پر کچھ لکھتے رہتے تھے شعیب اختر کے اس بیان کو ڈاکٹر نعمان نے سخت ناپسند کیا اور اسے اپنی توہین اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کے مترادف قرار دیا ان کے وکیل قاضی عمیر علی نے 29 مئی کو شعیب اختر کو قانونی نوٹس بھیجا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے بیان پر عوامی معافی مانگیں بصورت دیگر ہتک عزت کے قانون کے تحت عدالتی کارروائی کی جائے گی یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ان دونوں شخصیات کے درمیان اختلاف سامنے آیا ہو ماضی میں 2021 میں ایک لائیو ٹی وی شو کے دوران دونوں کے درمیان شدید بحث ہوئی تھی جس کے بعد شعیب اختر نے لائیو شو چھوڑ دیا تھا اور یہ واقعہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر خاصا زیر بحث رہا تھا حالیہ تنازع ایک مرتبہ پھر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ مشہور شخصیات کے درمیان اختلافات اگر میڈیا پر لائے جائیں تو وہ نہ صرف عوام میں منفی پیغام دیتے ہیں بلکہ متعلقہ افراد کے وقار کو بھی متاثر کرتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ شعیب اختر اس قانونی نوٹس پر کیا ردعمل دیتے ہیں اور آیا وہ معذرت کرتے ہیں یا پھر معاملہ عدالت تک پہنچتا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈاکٹر نعمان کے درمیان
پڑھیں:
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
امریکا میں آپریشن چیک میٹ کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری سخت کریک ڈاؤن کی لپیٹ میں ہیں۔
دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کے لیے وبال جان بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے وفاقی امیگریشن نافذ کرنے کی مہم ’آپریشن چیک میٹ‘ کے تحت سخت کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق آپریشن چیک میٹ کے تحت گرفتار کیے گئے 36 ٹرک ڈرائیوروں میں سے کم از کم 30 بھارتی شہری تھے۔
خود بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد افراد کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس تک موجود نہیں تھے ۔ تمام افراد کیخلاف امریکی قانون کے تحت کارروائی کر کے امریکا سے نکالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یوما سیکٹر کے قائم مقام چیف پٹرول ایجنٹ ڈسٹن کاڈل نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر موجود بھارتی ڈرائیورعوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں ۔
سعودی عرب، کینیڈا اور امریکا سمیت بیشتر ممالک جعلی دستاویزات اورفراڈ سمیت متعدد وجوہات کی بنیاد پر بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کر چکے ہیں ۔ بھارتی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق2021 سے 2025 کے دوران 52 مختلف ممالک سے 171,150 بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق مودی کے نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعووں کے باوجود بھارتی شہریوں نےغیر قانونی طور پر ملک سے بھاگ کر بھارت کا پول کھول دیا ہے۔ مختلف ممالک میں ریاست مخالف سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں ملوث بھارتی تارکین عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔