راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا۔بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتجاجی تحریک کا مرکز اسلام آباد نہیں ہوگا، ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلائیں گے۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا گیا ہے، ہمارے پاس سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا، ملک بھر میں احتجاج کریں گے جسے میں جیل سے لیڈ کروں گا۔علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا احتجاجی تحریک سے متعلق تمام ہدایات میں جیل سے دوں گا، بانی پی ٹی آئی نے مجھے ذمہ داری دی ہے کہ احتجاجی تحریک کا پلان بنا کر دوں۔سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے آئندہ ملاقات پر احتجاجی تحریک کا پلان پیش کروں گا، وکلا اور پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد منصوبہ بندی کریں گے۔

بھکاری مافیا بدنامی کا سبب، گداگری ناقابل ضمانت جرم قرار دینا ہوگی: محسن نقوی

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی بہت سنجیدہ ہیں، اب جو تحریک چلے گی ایسی پہلے کبھی نہیں چلی ہوگی، بانی پی ٹی آئی نے کہا اس دفعہ تحریک کو نتیجہ خیز بنانا ہے۔علی ظفر نے کہا کہ تحریک چلانے میں رکاوٹیں آتی ہیں لیکن ہمیں بھی طریقے آتے ہیں، چند دنوں میں احتجاجی تحریک کی حکمت عملی تیار ہو جائے گی، اگلی ملاقات کے بعد بانی پی ٹی آئی خود ذمہ داریاں تفویض کریں گے۔سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی لیڈرشپ کے بارے میں کہا کہ ان پر اعتماد ہے لیکن تحریک وہ لیڈ خود کریں گے، انہوں نے کہا کہ ہمیں عدلیہ اور ایگزیکٹو سے کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔

پنجاب :سی ٹی ڈی کی مختلف شہروں میں کارروائیاں، 34 دہشتگرد گرفتار

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کہ بانی پی ٹی آئی نے احتجاجی تحریک کریں گے

پڑھیں:

قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی، 
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔

عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔

آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی

متعلقہ مضامین

  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع