— فائل فوٹو

پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتجاجی تحریک کا مرکز اسلام آباد نہیں ہوگا، ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلائیں گے۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا گیا ہے، ہمارے پاس سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا، ملک بھر میں احتجاج کریں گے جسے میں جیل سے لیڈ کروں گا۔

علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا احتجاجی تحریک سے متعلق تمام ہدایات میں جیل سے دوں گا، بانی پی ٹی آئی نے مجھے ذمہ داری دی ہے کہ احتجاجی تحریک کا پلان بنا کر دوں۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے آئندہ ملاقات پر احتجاجی تحریک کا پلان پیش کروں گا، وکلا اور پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد منصوبہ بندی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی بہت سنجیدہ ہیں، اب جو تحریک چلے گی ایسی پہلے کبھی نہیں چلی ہوگی، بانی پی ٹی آئی نے کہا اس دفعہ تحریک کو نتیجہ خیز بنانا ہے۔

 علی ظفر نے کہا کہ تحریک چلانے میں رکاوٹیں آتی ہیں لیکن ہمیں بھی طریقے آتے ہیں، چند دنوں میں احتجاجی تحریک کی حکمت عملی تیار ہو جائے گی، اگلی ملاقات کے بعد بانی پی ٹی آئی خود ذمہ داریاں تفویض کریں گے۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی لیڈرشپ کے بارے میں کہا کہ ان پر اعتماد ہے لیکن تحریک وہ لیڈ خود کریں گے، انہوں نے کہا کہ ہمیں عدلیہ اور ایگزیکٹو سے کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کہ بانی پی ٹی آئی نے سینیٹر علی ظفر احتجاجی تحریک کریں گے

پڑھیں:

ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات

واشنگٹن:

امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔

سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔

سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔

بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔

ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔

روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان