بانی پی ٹی آئی نے حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا، سینیٹر علی ظفر
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا۔
بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتجاجی تحریک کا مرکز اسلام آباد نہیں ہوگا، ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلائیں گے۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا گیا ہے، ہمارے پاس سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا، ملک بھر میں احتجاج کریں گے جسے میں جیل سے لیڈ کروں گا۔
علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا احتجاجی تحریک سے متعلق تمام ہدایات میں جیل سے دوں گا، بانی پی ٹی آئی نے مجھے ذمہ داری دی ہے کہ احتجاجی تحریک کا پلان بنا کر دوں۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے آئندہ ملاقات پر احتجاجی تحریک کا پلان پیش کروں گا، وکلا اور پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد منصوبہ بندی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی بہت سنجیدہ ہیں، اب جو تحریک چلے گی ایسی پہلے کبھی نہیں چلی ہوگی، بانی پی ٹی آئی نے کہا اس دفعہ تحریک کو نتیجہ خیز بنانا ہے۔
علی ظفر نے کہا کہ تحریک چلانے میں رکاوٹیں آتی ہیں لیکن ہمیں بھی طریقے آتے ہیں، چند دنوں میں احتجاجی تحریک کی حکمت عملی تیار ہو جائے گی، اگلی ملاقات کے بعد بانی پی ٹی آئی خود ذمہ داریاں تفویض کریں گے۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی لیڈرشپ کے بارے میں کہا کہ ان پر اعتماد ہے لیکن تحریک وہ لیڈ خود کریں گے، انہوں نے کہا کہ ہمیں عدلیہ اور ایگزیکٹو سے کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کہ بانی پی ٹی آئی نے سینیٹر علی ظفر احتجاجی تحریک کریں گے
پڑھیں:
پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کردیا
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے 2026-27 کے ڈومیسٹک سیزن کے شیڈول اور ڈھانچے میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی)نے ڈومیسٹک ڈھانچے میں تبدیلیوں کے لیے آئی سی سی ون ڈے ورلڈکپ کی تیاریوں کو ترجیح دی ہے۔
سیزن کا آغاز 11 اگست سے ملتان میں چار ٹیموں پر مشتمل ایک روزہ ’نیشنل چیمپئنز کپ‘ سے ہوگا جس میں ٹیموں کا انتخاب قومی سلیکشن کمیٹی کرے گی تاکہ ون ڈے فارمیٹ میں نئے ٹیلنٹ کا جائزہ لیا جا سکے۔
اس سیزن میں دو لسٹ اے ٹورنامنٹس منعقد کیے جائیں گے جن میں نیشنل چیمپئنز کپ کے بعد پریزیڈینٹ کپ کھیلا جائے گا۔
دوسری جانب ریجنل ٹیموں کی تعداد 18 سے بڑھا کر 20 کر دی گئی ہے کیونکہ سیالکوٹ اور پشاور کو دوسری ٹیم میدان میں اتارنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
قائداعظم ٹرافی کو بھی پہلی بار گولڈ اور سلور ڈویژن میں تقسیم کردیا گیا ہے۔
گولڈ ڈویژن میں آٹھ مضبوط ترین ٹیمیں جبکہ سلور ڈویژن میں 12 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ دونوں ڈویژنز کا آغاز یکم نومبر سے ہوگا۔
ڈومیسٹک سیزن کا اختتام فروری اور مارچ میں کھیلے جانے والے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ پر ہوگا جبکہ پی سی بی کے مطابق نئے شیڈول کا مقصد قومی کھلاڑیوں کو زیادہ معیاری مقابلے فراہم کرنا اور ورلڈ کپ سے قبل بہترین استعداد تیار کرنا ہے۔